چین اور ترکی کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات فروغ پا رہے ہیں

ترکی بین الاقوامی امور میں چین کے اہم کردار کو سراہتا ہے چین کے صدر اور ترکی کے ہم منصب کی ٹیلی فون پر بات چیت

جمعہ اپریل 16:31

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے دعوت پر ترکی کے ہم منصب رجب طیب اردوگان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ چند برسوں میں چین اور ترکی کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مستحکم طور پر فروغ پا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق انہوں نے کہا کہ فریقین کو دو طرفہ تعلقات میں اضافہ کرنے اور توسیع دینے کی کوشش کرنی چاہیئے، ایک دوسرے کی دلچسپی کو مدنظر رکھ کر دو طرفہ تعاون کے لئے سیاسی بنیاد کو مضبوط بنانا چاہیئے اوردونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے معیار کو بلند کر کے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے تحت تعاون کو فروغ دینا چاہیئے۔

شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی متعلقہ عالمی و علاقائی امور میں اپنا خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔

(جاری ہے)

چین اور ترکی کو اقوام متحدہ اور جی 20 گروپ سمیت کثیرالجہتی نظام کے ڈھانچے کے تحت اہم امور پر قریبی رابطہ اور مشاورت کو مضبوط بنانا چاہیئے تاکہ نئے بین الاقوامی تعلقات اور انسانیت کے ہم نصب معاشرے کی تعمیر کے لئے خدمات سرانجام دی جائیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ترکی بین الاقوامی امور میں چین کے اہم کردار کو سراہتا ہے اور چین کی ترقی و خوشحالی کو دنیا کے استحکام کی بنیاد سمجھتا ہے۔۔ترکی دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کی حمایت کرتا ہے اور تجارت، توانائی ،بنیادی تنصیبات اور سیروسیاحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔۔ترکی کے صدر نے کہا کہ ترکی مشرقی ترکستان سمیت دہشت گردی کی تمام تنظیموں کی سخت مخالفت کرتا ہے اور ان قوتوں سے ترکی اور چین سمیت عالمی برادری کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔