برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے 65 ارکان کے دستخطوںاور حمایت یافتہ کشمیر پٹیشن برٹش وزیر اعظم تھریسا مے کو پیش کر دی گئی

جمعہ اپریل 16:52

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے 65 ارکان کے دستخطوںاور حمایت یافتہ کشمیر پیٹیشن برٹش وزیر اعظم تھریسا مے کو پیش کر دی گئی ۔۔جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین نے ممبرا ن پارلیمنٹ افضل خان ، بیر سٹر عمران حسین ، کونسلر یاسمین ڈار ، محمد اعظم ، سمیرا شاہد راجا، شاہدہ جرال ، راجا اعجاز محمود (10 Downing Street) جا کر کشمیرپیٹیشن جمع کروائی جس میں برطانو ی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دولت مشترکہ کی کانفرنس کے دوران برٹش کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے سلسلہ میں اپنا قانونی ، سیاسی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔

اس سے قبل تحریک کے زیر اہتمام برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی کے سلسلہ میں کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین جیک بریئرٹن (ایم پی )اور ڈپٹی چیئر مین ہیری بوٹا نے معاونت کی اور کانفرنس کی صدارت تحریک کے بانی چیئر مین راجا نجابت حسین نے کی جب کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمودچوہدری، پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی راہنما اور اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین ، چوہدری محمد سعید (MLA، وزیر ، آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر )، کشمیر پارلیمنٹری گروپ کے چیئر مین کر س لیزلے (ایم پی )، شیڈو امیگریشن منسٹر افضل خان (ایم پی )، شیڈو جسٹس منسٹر بیرسٹر عمران حسین (ایم پی )، نازی شاہ (ایم پی )، کونسلر یاسمین ڈار، محمد اعظم، ظفر احمد قریشی، شاہدہ جرال، ممتاز کشمیری صحافی حافظ مقصود احمد، انیلا ملک، بیرسٹر شہزادہ حیات، نعیم عباسی، چوہدری حکمداد، چوہدری فاروق احمد سائوتھ ہمپٹن، زاہد مغل، چوہدری بشارت، شہناز صدیق، راجا سکندر خان، راجا سلطا ن سمیت 80 سے زاہد مندوبین نے برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر گروپ اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے دگر گوں حالات، آصفہ بانو کی گینگ ریپ، کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ اور گولہ باری سے آزادجموں و کشمیر کے نہتے عوام کے قتل عام کے پیش نظر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر حل کروانے میں معاونت کریں۔

(جاری ہے)

تمام کشمیری لیڈروں نے کشمیر گروپ کے عہدیداروں اور تحریک حق خود ارادیت کی ٹیم کو کشمیر پر پارلیمانی ایوانوں میں مسئلہ کشمیر زندہ رکھنے اور کشمیر دوست ممبران پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر شاندار الفاظ میں کشمیری قوم کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرہ مودی کے خلاف ہزاروں کشمیریوں اور تمام لیڈرشپ نے متحد ہو کر جس یکجہتی کا آج پارلیمنٹ کے باہر اور اندر اظہار کیا ہے اس پر عالمی برادری کی آنکھیںکھل جانی چاہییںاور ان کواس بات کا پتا چلنا چاہیے کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام اپنے وطن کی آزادی چاہتے ہیں اور بھارت کے خلاف متحد و منظم ہیں۔

اس موقع پر جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجا نجابت حسین نے کشمیر پر چوتھی بحث کے لئے ارکان پارلیمنٹ اور کشمیری تنظیموں کی معاونت کا شکریہ ادا کیا جب کہ کشمیر گروپ کے چیئرمین کرس لیزلے (ایم پی ) نے بیک بنچ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کی کشمیر پیٹیشن کی روشنی میں ہم نے چوتھی بحث کے لئے منظوری لے لی ہے اور بہت جلد مسئلہ کشمیر پر برطانوی پارلیمنٹ میں چوتھی بحث منعقد کی جائے گی ۔

اُن کا مذید کہنا تھا کہ ہماری انسانی حقوق کے بارے میں انکوائری بھی بہت جلد مکمل ہونے والی ہے۔انہوں نے کشمیری راہنمائوں کویقین دلایا کہ کشمیر پارلیمنٹری گروپ برطانوی پارلیمنٹ میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتا رہے گا۔