مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کے واقعات بھارتی جمہوریت کے چہرے پر بدنما دھبہ ہیں،میر واعظ

آصفہ کے مجرموں کو کڑی سزا دینے اور آبروریزی کے تمام واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ

جمعہ اپریل 17:37

سری نگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کٹھوعہ کی کمسن آصفہ کی آبروریزی اور قتل میں ملوث مجرموں کو سخت ترین سزا دینے اور مقبوضہ علاقے میں گزشتہ ستائیس برس کے دوران پیش آنے والے خواتین کی آبروریزی کے تمام واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ دہراتے ہوئے دنیا کی انصاف پسند اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی آواز بلند کریں۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کم عمر آصفہ کے دردناک واقعے نے جہاں پوری عالم انسانیت کو جنجھوڑ کررکھ دیا ہے وہیں اس نے کشمیریوں کے پرانے زخموں کو کریدا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کو گزشتہ تین دہائیوںسے اس طرح کی وحشیانہ کارروائیوںکا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کنن پوشپورہ ، چک سعدپورہ، پزی پورہ، پالہ پورہ، ڈورو، بدسگام، ڈلی پورہ شوپیاں میں پیش آنے والے خواتین کی بے حرمتی کے واقعات بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ملزموںکو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ معصوم آصفہ جیسے المناک واقعات یوں ہی پیش نہیں آتے بلکہ ان کے پیچھے ایک منظم اور گھنا?نی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔

میر واعظ نے کہا کہ جہاں آصفہ کے سانحہ کے ذریعہ ایک کمیونٹی کو ٹارگٹ کرکے ان میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہیں کنن پوشپورہ جیسی گھنا?نی کارروائی کے ذریعہ کشمیریوں کو تحریک آزادی سے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ میرواعظ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں پیش آنے والے آبروریزی کے تمام واقعات کی نئے سرے سے تحقیقات کرکے مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

میر واعظ نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا کے انصاف پسند ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے باضمیر لوگ ، سول سوسائٹی اور انصاف پسند ادارے بھی مقبوضہ کشمیر میں آبروریزی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کریں گے۔میرواعظ نے مقبوضہ علاقے میں بندشوں، ، قدغنوں، نظر بندیوں اور کرفیو کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور اسکے کٹھ پتلی آخر کب تک کشمیریوں کی آواز کو جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔