سابق سینئر بورد آف ممبر ریونیو آفتاب میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت پر وکلا کو پیش ہونے کا حکم

جمعہ اپریل 18:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے سابق سینئر بورد آف ممبر ریونیو آفتاب میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت پر وکلا کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 8مئی تک ملتوی کردی ہے ۔جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو آفتاب میمن سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی ۔

عدالت میںدرخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں نیب کسی جوڈیشل افسر کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا ، آفتاب میمن بورڈآف ریونیو میں جوڈیشل ممبر تھے جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس کی سیکشن تین کے تحت کسی بھی ملزم کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے ۔جج کا حکم نامہ مجرمانہ غفلت میں شمار نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ آفتاب میمن کا حکم نامہ غلط ہوسکتا ہے لیکن مجرمانہ غفلت نہیں اور نہ ہی ملزم نے کرپشن کی ۔

عدالت میں ملزم سالک کے وکیل پیش نہ ہوسکے جسپرعدالت نے برہمی کااظہارکیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وکیل پیش نہیں ہوتے تو ملزم خود دلائل دیں ورنہ جیل بھیج دیں گے جبکہ عدالت میں سنئیر وکیل رشید رضوی کا کہنا تھا کہ میں نے عدالتی زندگی میں کبھی بھی عدالتوں کا ملزم کے ساتھ ایسا رویہ نہیں دیکھا یہ کیسا انصاف ہے کہ وکیل پیش نہیں ہوگا تو ملزم خود دلائل دے گا۔

عدالت میں رشید اے رضوی ایڈووکیٹ کی مداخلت کے بعد ملزم محمد سالک کو روسٹم سے ہٹا دیا گیا عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آفتاب میمن نے دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے 1729 ایکڑسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی سرکاری زمین کی الاٹمنٹ سے قومی خزانے کوکروڑو روپے کا نقصان پہنچایا۔ملزمان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر کا موقف سنتے ہوئے 8 مئی کو ملزمان کے وکلا کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی