پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورلڈ بک ڈے پر سیمینارکا انعقاد

کتب بینی کو فروغ دینے کیلئے ریاستی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے‘ مقررین

جمعہ اپریل 19:09

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) مطالعے کی عادات کو فروغ دینے کیلئے کتابوں سے محبت کے کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے ریاستی سطح پر سستی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ انفارمیشن مینجمنٹ کے زیر اہتمام یونیورسٹی لائبریری کے اشتراک سے ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے پر ’شخصیت سازی میں مطالعہ کا کردار‘ کے موضوع پرالرازی ہال میں منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری، چیئرپرسن پنجاب کمیشن آن ویمن ڈاکٹر فوزیہ وقار ،چیئرپرسن شعبہ انفارمیشن مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، شاعر رحمان فارس،چیف لائبریرین ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی، فیکلٹی ممبران ، لائبریرینز اور طلبائو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں ڈاکٹر فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستان میں مطالعے کی عادات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہورہی ہیںجبکہ ہمارے رویے ، جذبات ، برداشت ، احساسات اورآگاہی کا گہر اتعلق کتب بینی سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتب بینی سے مثبت سوچ پید اہوتی ہے جو اچھی زندگی کی ضامن ہے ۔ ڈاکٹر فخر الحق نوری نے کہا کہ علم کی ترویج کیلئے طلبہ سے زیادہ اساتذہ کو کتب بینی کا شوق ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کتابیں اچھی تربیت کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر کنول امین نے کہا کہ ادب ، ناول و دیگر لٹریچر پڑھنے سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے نیز کتب بینی سے معاشرے کے چھپے پہلو جاننے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میںسکولوں میں ریڈنگ کارنر کا نہ ہونااور کالجز میں لائبریرینز کا رویہ کتابوں سے محبت کا کلچرپروان نہ چڑھانے کی بڑی وجوہات ہیں جس کے لئے سسٹم کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔