چائنیز سکالرز اورپروفیسرز کے وفد کا پشاورمیوزیم کا دورہ

آٹھ رکنی وفد میں پروفیسرز ، لیکچرز اور سکالرز نے پشاورمیوزیم سمیت دیگر آثارقدیمہ کے مقامات کا دورہ کیا

جمعہ اپریل 20:11

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا اور محکمہ آثارقدیمہ کے تحت چائنیز بدھ مت کے ریسرچ سکالرز اور پروفیسرز کا پشاور میوزیم کا دورہ ، جس میں پیکنگ یونیورسٹی چین ، نیشنل آرٹس یونیورسٹی ، سنگاپور انسٹی ٹیوٹ رانوان یونیورسٹی اور ریسرچ سنٹر چائنہ کے پروفیسرز اور سکالرز پر مشتمل آٹھ رکنی وفد شامل تھا، اس موقع پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے جنرل منیجر ٹورسٹ انفارمیشن سنٹرمحمد علی سید، انچارج میوزیم و کیوریٹر آصف ، اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسرچائنیز ڈویژن فارن آفس محمد طارق اور دیگر بھی موجود تھے ، دورے کے دوران کیوریٹر محمد آصف نے چائنہ سے آئے ہوئے وفد کو پشاور میں موجود آثارقدیمہ ، بدھ مت ، مجسموں ، آرکیالوجیکل گیلیگری اور دیگر نوادرات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ، جی ایم ٹی آئی سیز محمد علی سید نے کہا کہ اس دورے کامقصد صوبہ میں موجود آثارقدیمہ کی اہمیت کو دنیا میں اجاگر کرنا ہے اور ساتھ ہی مذہبی سیاحت کو فروغ دینا ہے تاکہ بیرون ممالک سے زیادہ سے زیادہ سیاح اور مذہبی سکالر ان مقامات کا رخ کرسکیں، کیوریٹر محمد آصف نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ صوبہ میں 6ہزار سے زائدآثارقدیمہ کی سائٹس موجود ہیں ،صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ صوبہ میں موجود آثارقدیمہ کے مقامات کی کھدائی کرکے ان مقامات کو آباد کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بدھ مت کے ماننے والے سیاحوں کو ان مقامات کی جانب لایا جائے ، دورے میں آئے سکالرزاور پروفیسرز کا کہناتھا کہ پشاور ایک محفوظ شہر ہے اور یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں یہاں پر آثارقدیمہ کے کئی مقامات موجود ہیں ایک روز قبل ہم نے تخت بھائی کا دورہ کیا جبکہ پشاورمیوزیم میں بدھ مت کے کافی تعداد میں مجسمے موجود ہیں یہاں سیاحوں کو آکر کافی کچھ دیکھنے اورجاننے کے مواقع میسر ہوتے ہیں ، ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اپنی یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کو ان مقامات اور میوزیم کے دورے پر لائے تاکہ ان کی ریسرچ مکمل ہوسکے ۔