حکومت کے لیے سندھ اسمبلی کا اجلاس چلانا اوراپوزیشن ارکان کوکنٹرول کرنا مشکل ہوگیا

سیف الدین خالد نے پانی کی قلت کے خلاف ایوان میں دھرنا دیا تو سعید نظامانی نے اپنی نشست پرکھڑے ہوکرنعرہ تکبیربلند کردیا

جمعہ اپریل 22:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) 39 دن کی مہمان حکومت سندھ کے لیے سندھ اسمبلی کا اجلاس چلانا اوراپوزیشن ارکان کوکنٹرول کرنا مشکل ہوگیا،عوامی توجہ کے حصول کے لیے اپوزیشن ارکان سندھ اسمبلی نے پارلیمانی طریقہ کارکی بجائے ایوان میں احتجاج کے لیے ڈرامائی اندازاختیار کرنا شروع کردیے ، ایم کیو ایم کے منحرف رکن سیف الدین خالد نے پانی کی قلت کے خلاف ایوان میں دھرنا دیا تو سعید نظامانی نے اپنی نشست پرکھڑے ہوکرنعرہ تکبیربلند کردیا،ایک ہفتے کے دوران کوئی بجلی کے بلب کا ہارگلے میں لٹکائے سراپا احتجاج تو کوئی بے بس حکومت کے لیے چوڑیوں کا تحفہ لے آیا۔

سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے پانی بجلی اورکاشتکاروں کے لیے باردانہ سمیت دیگرعوامی مسائل پراحتجاج کے لیے انوکھے اور ایسے منفرد اندازاختیارکرنا شروع کردیے ہیں کہ جس میں ایوان کا تقدس دا پرلگ جانے کی نوبت آگئی ہے ۔

(جاری ہے)

جمعہ کوسندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے منحرف رکن سندھ اسمبلی سیف الدین خالد نے اپنے حلقہ انتخاب اورنگی ٹان میں پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسپیکرڈائس کے سامنے فرش پرلیٹ گئے اورنعرے بازی شروع کردی سیف الدین خالد نے اسپیکرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ چنے اورکپڑے ساتھ لیکرآیا ہوں جب تک میرے حلقے میں پانی فراہم نہیں کیا جاتا ایوان سے نہیں جاں گا ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے حلقے کوپانی کے ایک سوٹینکر فراہم کیے جائیں ۔

سیف الدین خالد کی جانب سے اسمبلی اجلاس ختم ہونے کے بعد بھی احتجاج جاری رکھا گیا ایوان کی بجلی اورائیرکنڈیشنربند کردیے جانے کے بعد وہ اندھیرے میں کئی گھنٹے ایوان میں موجود رہے تاہم گرمی اورگھٹن کے باعث ان کی طعیت خراب ہونے لگی جس پرسیکریٹری سندھ اسمبلی نے ان سے مذاکرات کیے اورانہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے سروسزاسپتال سے ایمبولینس سندھ اسمبلی طلب کرلی گئی ۔

سیف الدین خالد کے احتجاج سے قبل اپوزیشن رکن سعید نظامانی نے تو حد کردی وہ اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اوراللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو حقوق دلا کر دم لیں گے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل اپوزیشن رکن سندھ اسمبلی کامران اخترنے بجلی کے بلب کا ہارگلے میں لٹکا کرسندھ اسمبلی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا اورکہا کہ وہ حکومت سندھ کو100واٹ کا جھٹکا دینا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں اپوزیشن رکن خرم شیرزمان چند روزقبل وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے لیے چوڑیوں کا تحفہ لیکرآئے اورسندھ اسمبلی کی سیڑھیوں پرچوڑیاں پھیلادیں ۔ اپوزیشن ارکان نصرت سحرعباسی ، حاجی شفیع جاموٹ اورشیرازی برداران نے جمعرات کو گندم باردانہ کی خالی بوریاں لیکرسندھ اسمبلی آئے اورکاشتکاروں کوباردانہ کی عدم فراہمی پرحکومت سندھ کے خلاف احتجاج کیا ۔