قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس

وزارت خارجہ کی طرف سے تشکیل دی گئی قونصلر پروٹیکشن پالیسی کا بغور جائزہ لیا

جمعہ اپریل 22:07

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تارکین وطن پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں وزارت خارجہ کی طرف سے تشکیل دی گئی قونصلر پروٹیکشن پالیسی کا بغور جائزہ لیا۔ قائمہ کمیٹی کا 37واں اجلاس کمیٹی کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی میر عامر علی خان مگسی کی زیر صدارت جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میںمنعقد ہوا۔

قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت خارجہ مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات سمیت انہیں فراہم کی جانے والی معاونت کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ اجلاس میں6 فروری2018 ء کو منعقدہ 36ویں اجلاس کے منٹس کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شاہراہ دستور پر واقعہ گرینڈ حیات ہوٹل میں سرمایہ کاری کرنے والے تارکین وطن کے معاوضوں کی ادائیگی اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف اآئی ای) کے امور بھی زیر بحث آئے۔

(جاری ہے)

ایف آئی اے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ منصوبہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک ہے۔ ۔ اجلاس میں تارکین وطن پاکستانیوں کے او پی ایف کے پاس زیر التواء موت سے متعلقہ مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ او پی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام زیر التواء کیسز کو ترجیحی بنیادوں کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کمیٹی ارکین قومی اسمبلی میاں امتیاز احمد، شیخ صلاح الدین، مسرت رفیق ماہیسر، شگفتہ جمانی، ناصر خان، عائشہ، شکیلہ خالد لقمان اور وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے سینئر افسران اور نمائندے بھی شریک تھے۔