نشترہسپتال کی بہتری اور یونیورسٹی کوعالمی معیار پرلانے کیلئے اقدامات شرع کردیئے، قائم مقام وائس چانسلر

جمعہ اپریل 23:10

ملتان۔20 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) قائم مقام وائس چانسلر نشتریونیورسٹی ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود نے کہاہے کہ انہوںنے مختصر عرصے میں نشترہسپتال کی بہتری اور یونیورسٹی کو عالمی معیار پرلانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کردیئے ہیں۔آج جمعہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کل (بروزہفتہ)ایچ ای سی کاوفد یونیورسٹی کا دورہ کررہاہے جس میں امکان ہے کہ بہت سے نئے منصوبوں کی منظوری دی جائیگی۔

انہوں نے کہاکہ 1852ء میں جب ہسپتال بنایاگیاتھا تویہاں پر1103بیڈز کی منظوری دی گئی تھی جوکہ گزرتے وقت کے ساتھ کئی گنا بڑھ گئی ہے۔آج 3000مریض نہ صرف ملتان بلکہ جنوبی پنجاب سمیت دیگرصوبوں سے لائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیڈز کی تعداد بڑھا کر 1700کردی ہے تاہم انتظامیہ کی کوشش ہے کہ انہیں مزید بڑھایا جائے جس کے لیے پی سی ون تیارکیا جارہاہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے ان کی کوشش ہے کہ ایمرجنسی وارڈ کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ ایمرجنسی وارڈ کے ساتھ ساتھ وہ ایک نئی’’ ایمرجنسی ‘‘بھی تیارکریں گے جس کا پی سی ون تیارہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخواہ ،،سندھ سمیت پورام ملک نشتردیکھ رہاہے۔اس کے موجودہ ایمرجنسی ناکافی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سرجیکل وارڈ کو بھی ’’اپ گر یڈ‘‘کررہے ہیں۔

بچوں کے 19نمبر وارڈ کے ساتھ چھوٹے بچوں کے لیے علیحدہ وارڈ بنارہے ہیں جس کی فنڈنگ برطانیہ میں رہائش پذیر پاکستانی ڈاکٹرز کمیونٹی نے کی ہے۔نشترمیں موجود بریسٹ کلینک میں کام شروع ہوچکا ہے اوراس کا علاج بہت تھوڑے پیسوں سے جاری ہے۔اس کے علاوہ ٹیومر بورڈ بھی شروع کرچکے ہیں۔کینسر کا علاج جوکہ بہت مہنگا ہے اس کی ادویات 99 سے 99.5فیصد مفت دستیاب ہیں۔

اس وقت تقریباً 3500کینسر کے مریض مفت ادویات سے مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہسپتال انتظامیہ کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مریضوں کے ٹیسٹ ہسپتال کی لیبارٹری سے مفت کرائے جائیں تاہم ناگزیر صورت میں انہیں باہر کی دو ،تین مخصوص لیبارٹریوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔قائم مقام وائس چانسلر نے کہاکہ نشترکاپانی آرسینک فری قراردیا جاچکاہے۔

ہسپتال کے اندر اورباہر موبائل فون کے سگنلز کم یا نہ ہونے کے باعث مریضوں اورعملے کو مشکلات کاسامنا رہتاہے جس کے پیش نظر ’’جاز‘‘سے ایم او یو سائن کیا جاچکاہے۔امید ہے کہ یہ مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے گا۔انوہں نے کہاکہ ہسپتال میں پارکنگ ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ سٹیکرز جاری کیے جائیں اور مستقبل میں منصوبہ ہے کہ گیٹ پر چھوٹی کاریں چلائیں گے جو مریضوں کو بآسانی متعلقہ وارڈز میں شفٹ کردیں گی۔