معاشرے میں اعضاء کے عطیہ کرنے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین

جمعہ اپریل 23:38

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں بعد از مرگ اعضاء کی پیوند کاری کوفروغ دینے کے سلسلے اور اعضاء کی خرید و فروخت کے سد باب پر ایک کانفرنس اور ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سوسائٹی کے مثبت کردار پر روشنی ڈالی گئی۔اس دو روزہ کانفرنس اور ورکشاپ میں انسانیت کی بھلائی اور اس مزید بہتری کے لئے اقدامات کے موضوع پربات کی۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں سر فہرست ڈاکٹر ، عدلیہ، وکلا ء ، سرکاری ادارے ، سول سوسائٹی کے نمائندگان، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والی قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی۔ یہ اس طرح کا پہلا موقع تھا کہ تمام ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور انہوں نے زندگیاں بچانے کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کی۔

(جاری ہے)

پروفیسر ادیب رضوی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیوندکاری کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بعد از مرگ اعضاء کے عطیہ کرنے میںپیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل کا بھی ذکر کیا ور عدالت عالیہ کا اس موضوع پر ازخود نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک موضوع پر متفق ہونے پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ڈان گروپ کے سربراہ حمید ہارون نے ایس آئی یو ٹی کی اعضاء کی پیوندکاری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدوجہد ابھی جاری ہے کیونکہ ہمیں انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق قوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ محترمہ نزیحاعلی ریسرچ جرنلسٹ نے غیر قانونی اعضاء کی پیوندکاری پر کی گئی تحقیق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی پیوند کاری کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقہ اس کا شکار ہوتا ہے۔ملک کے نامور وکیل منیر ملک نے اعضاء کی غیرقانونی کاروبار کی روک تھام کے سلسلے میں قانونی نقطہ نگاہ پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر جسٹس(ر) ماجدہ رضوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دن بھر کے مختلف پروگراموں میں ممتاز شاعرہ محترمہ زہرہ نگاہ کی قابل ذکر نظم جو اعضاء کی پیوندکاری کے منتظر مریضوں کے احساسات کی ترجمانی کرتی ہے، خود پڑھ کر سنائی۔اسی دوران مختلف جاری ورکشاپس میں ان باتوں پر غور کیا گیا کہ لوگوں میں اعضاء عطیہ کرنے کے رجحان کو بڑھانے میں میڈیا، قانون دان اور سرکاری اداروں کا کیا کردار ہونا چاہئے۔