سینیٹر ز کی خرید و فروخت سے سینیٹ کی اخلاقی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی ، سینیٹ کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملاسکتے‘سراج الحق

سینیٹ الیکشن میں چند گھوڑے نہیں ، پورا پورا اصطبل بک گیاہے ، جس طرح بکنے والے مجرم ہیں اسی طرح خریدنے والے بھی مجرم ہیں نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ستر سال سے سیاست اور جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کرنے والے اژدھوں کے دانت توڑنے اور ہاتھیوں کی سونڈمروڑنے کی ضرورت ہے ‘امیر جماعت اسلامی

جمعہ اپریل 23:40

لاہو ر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سینیٹر ز کی خرید و فروخت سے سینیٹ کی اخلاقی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی ہے ، سینیٹ کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملاسکتے ، سینیٹ الیکشن میں چند گھوڑے نہیں ، پورا پورا اصطبل بک گیاہے ، جس طرح بکنے والے مجرم ہیں اسی طرح خریدنے والے بھی مجرم ہیں ، ہم نے پہلے مرحلے میں رضا ربانی کا نام پیش کیا تھا لیکن آصف علی زرداری نے اپنے ایک کارکن کی حمایت نہیں کی، وی آئی پیز سے پولیس گارڈ واپس لینے کے چیف جسٹس کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس فیصلے کو سراہتے ہیں ، نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ستر سال سے سیاست اور جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کرنے والے اژدھوں کے دانت توڑنے اور ہاتھیوں کی سونڈمروڑنے کی ضرورت ہے ، جب تک چھ ہزار کرپشن کنگز جیلوں میں نہیں جاتے ، کرپشن کے خاتمہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔

مرکزی حکومت لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوئوں کی ناکامی پر قوم سے معافی مانگے یا اپنے جھوٹے اور ناکام ہونے کا اعلان کرے ، سپریم کورٹ حقیقی احتساب کے لیے تیار ہو جائے تو پوری قوم عدلیہ کی پشت پر کھڑی ہوگی ورنہ عوام موجودہ اقدامات کو ہوائی فائرنگ ہی سمجھیں گے ،متحدہ مجلس عمل عوام کا پلیٹ فارم ہے ، آئندہ انتخابات میں روایتی پارٹیوں کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری پانچ روزہ تربیت گاہ سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگر پانامہ ، دبئی اور لندن لیکس کے کردار وں کو دوبارہ الیکشن لڑ کر عوام کی گردنوں پر سوار ہونے کا موقع ملا تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن ، نیب اور احتساب کے اداروں پر ہوگی ۔

انہوںنے کہاکہ ڈسپرین اور پیناڈول سے کام نہیں چلے گا ، عوام اب بڑا آپریشن چاہتے ہیں ۔ جب تک کرپشن کے ناسور کو جڑوں سے نہ نکالا گیا ، کینسر کی یہ بیماری پھیلتی رہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں غربت ، جہالت ، بے روزگاری ، بدامنی ، لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا اصل مجرم یہی ٹولہ ہے ۔ ستر سال سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے نام سے اقتدار پر قابض رہنے والوں نے عام آدمی کا استحصال کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اسلام آباد میں قبرستان کی سی خاموشی ہے ۔ یہ شہر اقتدار بے ضمیروں اور بیرونی ایجنسیوں کا شہر بن کر رہ گیا ہے جہاں سے کشمیر کے جہاد کی حمایت میں آواز نہیں اٹھتی بلکہ پاکستان کی تکمیل کی خاطر ہونے والی اس جدوجہد کو سبوتاژ کیا جارہاہے ۔ ملکی سیاست شطرنج کا کھیل بن چکی ہے ۔ سیاست اور جمہوریت یرغمال ہے کوئی غریب اسمبلی میں نہیں پہنچ سکتا ۔

انہوںنے کہاکہ حکمرانوں نے قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کی جن زنجیروں میں جکڑ رکھاہے ان کو صرف اسلامی حکومت توڑ سکتی ہے اور ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل صرف نظام مصطفیٰؐ میں ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ چیف جسٹس کو بتانا چاہتاہوں کہ جب تک سیاست سے ملاوٹ ختم نہ ہو جائے ، دودھ میں ملاوٹ ختم نہیں ہوسکتی ۔ الیکشن آتے ہی پرندے گھونسلے بدلنے لگتے ہیں اور ایک گھونسلے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے گھونسلے میں جا بیٹھتے ہیں مگر عوام ان کو خوب پہچانتے ہیں ۔

یہ کیا کعبے کے غلاف میں بھی جا چھپیں تو ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور ان سے قومی دولت کی پائی پائی وصول کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیٹس کو کی قوتوں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہروں نے بائیس کروڑ عوام کو شیطانی چکر میں پھنسا رکھاہے ۔تعلیمی ادارے ناکام ہیں ہسپتالوں میں علاج نہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریا ں جلانے پر مجبور ہیں ، انہیں روز گار نہیں مل رہا۔

اگر سرکاری سکولوں میں صدر اور وزیراعظم کے بچے پڑھتے تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی اور اگر ہمارے ہسپتالوں سے حکمران اپنا علاج کرواتے تو ان کی بدحالی کی طرف بھی کسی کا دھیان ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ آج نوازشریف اور ان کی بیٹی کو کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اس لیے لندن جانا پڑتاہے کہ وہ ملک میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا ہسپتال نہیں بناسکے۔ انہوںنے کہاکہ ظلم کیخلاف آواز نہ اٹھانا سب سے بڑی منافقت اور ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے ۔

Your Thoughts and Comments