معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہونے کا اعتراف کرلیا، اہم مطالبہ بھی کرڈالا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ اپریل 21:37

معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہونے کا اعتراف ..
لاہور (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار- 20 اپریل 2018ء ) :معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی جنسی ہراسگی کا شکار ہونے کا اعتراف کرلیا، جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والی خواتین کے حوالے سے اہم مطالبہ بھی کرڈالا۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کے وہ مرد جنہوں نے جانے انجانے میں کسی عورت کے ساتھ غلط کیا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ سامنے آ ئیں ،اپنے کئیے کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگیں۔

تفصیلات کے مطابق علی ظفر کیس کے بعد پاکستان شوبز انڈسٹری کی متعدد خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کئیے جانے کا اعتراف کیا ہے انہی میں سے ایک پاکستان کی معروف اور خوبرو اداکارہ مومنہ مستحسن بھی ہیں ۔اپنے انسٹا گرام اکاونٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مجھے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور وہ معاملہ علی ظفر کے معاملے سے بہت آگے کا تھا۔

(جاری ہے)

انکا کہنا تھا کہ انکا کہنا تھا کہ خواتین کو عموما ان مردوں کے ہاتھوں ہی ہراساں ہونا پڑتا ہے جن پر وہ اعتماد کرتی ہیں کیونکہ مرد عورت کے اعتماد کو اہمیت نہیں دیتے جو انکو دینا چاہیے۔میری دعا ہے کہ لوگ متاثرہ خواتین کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور انکا ساتھ دیں۔انکا کہنا تھا کہ جنسی ہراسگی کا اعتراف کرنے والی خواتین کو جن سوالات کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سب سے زیادہ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آ خر انہوں نے اس کے خلاف بولنے میں اتنا وقت کیوں لگا دیا ،انکا کہنا تھا کہ اسکا جواب بہت سادہ ہے۔

انکا کہنا تھا کہ خواتین پر خاموش رہنے کے لیے بہت دباو ہوتا ہے ۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس بات کے سامنے آتے ہی عورت کے کردار پر بات ہونے لگتی ہے،چونکہ ملوث مردوں کو علم ہوتا ہے کہ جسمانی ہراسگی کو ثابت کرنا ممکن نہیں اس لئیے وہ متاثرہ خواتین کو عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں اور انکو ذلیل کرتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ آخر کار عورت کو بولنا پڑتا ہے اور کیونکہ اس کے پاس اور کوئی انتخاب نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ خدارا ہمیں مشکوک نگاہوں سے دیکھنے والے ہمیں سمجھنے کی کوشش کریں ۔ہماری جگہ اپنے کسی خاندان کے ممبر کو رکھ کر دیکھیں۔انکا کہنا تھا کہ میں درخواست کرتی ہوں کہ خواتین کا سہارا بنیں ایسی خواتین کی حمایت کریں۔انکا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اس کو پڑھنے والے مرد اس بات کے قائل ہوں گے کہ جنسی ہراسگی کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں ہے۔آخر میں انکا کہنا تھا کہ انکا کہنا تھا کہ میں علی ظفر اور اس جیسے دوسرے مردوں سے بس اتنا ہی کہوں گا کہ اگر آپ نے کبھی بھی جانے انجانے میں کسی عورت کو ہراساں کیا ہے تو ہمت کرو اور سامنے آو۔اس سب چیز کی معافی مانگے اور ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کرے۔

متعلقہ عنوان :