طالبان نے جنوبی افغانستان میں موبائل فون سروس بند کرا دی

ہفتہ اپریل 10:00

کابل ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) افغانستان کے صوبہ ہیلمند میں طالبان باغیوں نے حالیہ دِنوں میںاپنے زیر قبضہ علاقوں میں نجی ٹیلی مواصلاتی اداروں کی سہولت کو زبردستی بند کرا دیا ۔امریکی نشریاری ادارے کے مطابق علاقے کے باسیوں نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں گذشتہ پانچ دِنوں سے اٴْن کی موبائل سروس منقطع ہے۔صوبہ ہیلمند کے مواصلات کے سربراہ امیداللہ ظہیر نے بتایا ہے کہ طالبان یہ خیال کرتے ہیں کہ افغان حکومت نجی مواصلاتی نظام کو فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام مواصلاتی اداروں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں طالبان نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنا کام بند کردیں۔اطلاعات کے مطابق، باغیوں نے ذرائع ابلاغ کے کم از کم 120 ٹاور بند کرا دیئے ہیں، شاید اس نیت سے کہ ایسا کرنے سے صوبے میں افغان فوج کی کارروائیوں میں خلل ڈالا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

تاہم، افغان دفاعی حکام نے کہا ہے کہ اس خلل کے نتیجے میں اٴْن کی مواصلات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اٴْن کے پاس اپنا ذاتی مواصلاتی نظام موجود ہے۔

اٴْنھوں نے بتایا کہ اس رکاوٹ کے نتیجے میں محض مقامی باشندوں کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ طالبان نے دیگر مقامات پر بھی ٹیلی کمیونیکشن سہولیات بند کرا دی ہیں۔ مقامی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ باغی گروپ نے مواصلاتی اداروں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ جنوبی ارزگان اور زابل صوبوں میں ایک دِن میں چند گھنٹوں کے لیے سگنل بند کردیں۔واضح رہے کہ افغان فوج نے حالیہ دِنوں ہیلمند میں ’نصرت‘ نامی آپریشن شروع کیا ہے، تاکہ طالبان کو اٴْن کے مضبوط ٹھکانوں سے نکال باہر کیا جا سکے۔