شامی حکومت سے مذاکرات کامیاب،داعش کا دمشق خالی کرنے کا اعلان

معاہدے کے تحت روس بخیریت منتقلی اور انخلا کرنے والے قافلوں کی تلاشی کا مجاز ہو گا،شامی آبزرویٹری

ہفتہ اپریل 11:30

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) انسانی حقوق کی شامی آبزرویٹری نے کہاہے کہ انتہا پسند تنظیم داعش مذاکرات کاروں کے توسط سے ایک معاہدے پر راضی ہو گئی ہے۔ داعش،، روسی نمائندوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تنظیم دارلحکومت دمشق کا جنوبی علاقہ خالی کر دے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق معاہدے سے قبل شامی حکومت نے جنوبی دمشق پر میزائلوں سے شدید فضائی حملے اور گولا باری کی۔

ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بشار الاسد کی فوج اور اس کے مسلح حامیوں کی داعش کے ساتھ دارلحکومت کے جنوبی علاقے میں التضامن کالونی اور الیرموک کیمپ کے گرد ونواح میں پرتشدد چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ شامی فوج کے اس آپریشن کا مقصد شامی فوج کی جانب سے داعش پر معاہدہ قبول کرنے کے لئے دباو بڑھانا تھا۔

(جاری ہے)

پہلے پہل داعش نے اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے بشار الاسد فوج اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے درمیان جنوب مشرقی دمشق کے علاقوں یلدا، ببیلا اور بیت سحم میں ایک فائر بندی معاہدے کی اطلاع دی ہے۔تاہم القلمون کے علاقے میں واقع قصبات میں بھی آبزرویٹری کے مطابق روس اور جنگجووں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت فریقین کے درمیان فائر بندی اور ہتھیار حوالگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت روس اتفاق رائے سے اختلاف کرنے والوں کی بخیریت منتقلی اور انخلا کرنے والے قافلوں کی تلاشی کا مجاز ہو گا۔