امریکہ نے شمالی کوریا،ایران، چین روس عدم استحکام کی قوتیں قراردیدیا

روہنگیامسلمانوں کے خلاف زیادتی کے مرتکب افرادکو کٹہرے میں لایاجائے،امریکہ نے انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ جاری کردی

ہفتہ اپریل 12:30

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) امریکہ نے شمالی کوریا ، ایران ، چین اور روس کو عدم استحکام کی قوتیںقرار دیتے ہوئے کہاہے کہ روس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل معافی گردانتا ہے، ایسے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے اٴْنھیں ڈھیل دی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی حقوق کی سالانہ عالمی رپورٹ جاری کردی ،،امریکی محکمہ خارجہ نے چاروں کا شمار اٴْن ملکوں میں کیا ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، جس ضمن میں اظہار کی آزادی اور مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ کے معاملات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے،قائم مقام وزیر خارجہ جان سلیوان نے اپنے تعارفی کلمات میں بتایا کہ یہ چار ملک روزانہ کی بنیاد پر اپنی ہی سرحدوں کے اندر رہنے والوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

سلیوان نے کہا کہ ایسے ملک جو آزادی اظہار اور اپنے ہی شہریوں کے مذہبی، نسلی اور اقلیتی گروپوں کے خلاف تشدد کی اجازت دیتے ہیں، جو بات انتہائی قابل مذمت اور ہمارے مفادات کے خلاف ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ روس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل معافی گردانتا ہے، ایسے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے اٴْنھیں ڈھیل دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں روسی حکومت کو مطلق العنان سیاسی نظام بتایا گیا جس میں صدر ولادیمیر پوٹن کو فوقیت حاصل ہے۔

چین کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت لوگوں کو من مانے طور پر زیر حراست لیتی ہے، پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے اور زبردستی لاپتا کردیا جاتا ہے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے تقریر، مذہب اور تحریک کی آزادی پر ’’خاصی پابندیاں‘‘ عائد کر رکھی ہیں۔رپورٹ میں برما میں روہنگیا اقلیت کے خلاف کیے جانے والے تشدد کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

سلیوان نے بتایا کہ برما کے بحران کو حل کرنے کے لیے امریکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس بحران میں ہزاروں روہنگیا مسلمان اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے ہیں، جس سے قبل روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حکومت نے کارروائی کی تھی۔سلیوان نے کہا کہ خلاف ورزیوں، بدسلوکی اور حملوں کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سلیوان نے کہا کہ ساری دنیا شام میں ہونے والی انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے، جہاں اپنے ہی شہریوں پر بیرل بم برسائے جاتے ہیں؛ اسپتالوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور حکومت شام کے اہل کاروں کے ہاتھوں زنا اور بدسلوکی کی بیشمار اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔