غزل گائیک اقبال بانو کی نویںبرسی کاعقیدت واحترام سے انعقاد

ہفتہ اپریل 12:40

فیصل آباد۔21 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) صدارتی ایوارڈ یافتہ ملک کی معروف غزل گائیک اور پاکستان کی نامور گلو کارہ اقبال بانوجو 21اپریل 2009ء کو 74برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھیںکی نویں برسی ہفتہ کو انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی جبکہ اس موقع پر ملک بھر کے نگار خانوں سمیت آرٹس کونسلز میں خصوصی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میںغزل کی دنیا میں اقبال بانو کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔

گلوکارہ اقبال بانو 1935ء میں دہلی میں پید ا ہوئیں جنہوںنے کلاسیقی موسیقی کی تربیت استاد چاند خان سے حاصل کی اور 1950ء میں اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔انہیں غزل گائیکی کے ساتھ ساتھ کلاسیکل ، نیم کلاسیکل ، ٹھمری اور دادرہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔

(جاری ہے)

وہ اردو ، پنجابی ، فارسی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوںنے مختلف زبانوں میں غزل گائیکی میں اپنی خصوصی مہارت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔

انہوں نے فلم قاتل سمیت بہت سی فلموں کیلئے بھی غزلیں اور فلمی گیت ریکارڈ کروائے جو وقت کے ساتھ امر ہو گئے ۔۔فلم قاتل میں گایا ہو ا ان کا گیت " پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ، تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کی" انہیں شہرت کی بلندیوں تک لے گیا ۔1990ء میں صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والی گلو کارہ اقبال بانو نے علامہ اقبال ، مرزا غالب ، فیض احمد فیض سمیت دیگر قومی شعراء کے گیت اور غزلیں بھی گائیں۔انہوںنے فیض احمد فیض کی نظم "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گی" گا کرغزل و نظم میں اپنا لوہا منوایا ۔وہ 74برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔