نگران وزیر اعظم کے معاملے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں خفیہ معاہدے کا انکشاف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ اپریل 13:48

نگران وزیر اعظم کے معاملے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں خفیہ معاہدے کا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 اپریل 2018ء) : نگران وزیر اعظم کے لیے پیپلز پارٹی اور حکومتی جماعت مسلم لیگ ن میں خفیہ معاہدہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق نگران وزیر اعظم آزاد اور خود مختار نہیں ہو گا بلکہ اسے وزیر اعظم اور اپوزیششن لیڈر کی شرائط کو انتخبات کی تکمیل تک ماننا ہو گا۔ان شرائط میں نگران وزیراعظم کسی بھی دباؤ میں آ کر مستعفی نہیں ہو گا۔

، وقت پر انتخابات کروائے گا اور حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے دئے گئے افراد کو اپنی کابینہ میں وزیر طے شدہ وزارتوں میں تعینات کرنا ہوں گے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے مابین نگران وزیراعظم کے لیے ہونے والی پہلی ملاقات پر کچھ نکات طے کیے گئے تھے، جن میں اب مزید پیش رفت کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اور اب اس بات پراتفاق ہو گیا ہے کہ نگران وزیراعظم کو کچھ شرائط کے تحت وزیراعظم کا عہدہ قبول کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں متوقع اُمیدواروں سے شرائط کے حوالے سے بات چیت ابتدائی مرحلے میں جاری ہے۔ وزارت داخلہ ، دفاع اور اطلاعات کے وزرا مسلم لیگ ن دے گی جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے تین وزرا اور تین وزیر مملکت کے نام دئے جائیں گے۔ جمیعت علمائے اسلام کو حسب توفیق دو وزارتیں دی جائیں گی جبکہ ایم کیو ایم کو ایک وزیر دیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کو بھی دو وزرا اور ایک وزیر مملکت کیہ پیشکش کی گئی ہے۔ ساری جماعتوں کی جانب سے اس فارمولےپر تحریری اور خفیہ معاہدہ ہونے کے بعد نگران وزیر اعظم کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔