رمضان اور عید کے چاند کے معاملے کو متنازعہ بنانے والے مفتی پوپلزئی کیخلاف پہلی مرتبہ سخت ترین ایکشن لینے کی تیاریاں

ہفتہ اپریل 15:03

رمضان اور عید کے چاند کے معاملے کو متنازعہ بنانے والے مفتی پوپلزئی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے قانون سازی کرنے کے بجائے شوال کا چاند دیکھنے کے معاملے کو تنازع سے بچانے کے لیے حکومت نے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران بیک وقت دو عیدیں منائی جاتی رہیں ہیں کیونکہ پشاور میں مسجد قاسم علی خان کے عالم دین مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شوال کے چاند کا علیحدہ اعلان کردیتے ہیں۔

پارلیمنٹ کی کارروائی کا وقت نہ ہونے کے باعث حکومت کو کمیٹی کی جانب سے بل نہیں مل سکتا جسے دونوں ایوان سے منظور کرایا جاسکے جس کی وجہ سے وزارت مذہبی امور نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو وزارت داخلہ بھیجا جائے۔

(جاری ہے)

وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے اور ہم حکومت میں ہوں یا نہ ہوں، ملک میں دو عیدیں ہوتی نہیں دیکھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسائل صرف ایک دو شخصیات کے ساتھ ہیں اور وزارت داخلہ مفتی پوپلزئی کو اس سال بھی دبئی بھیج دے گی تاکہ عوام عید ایک ساتھ منا سکیں۔حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہورہی ہے ،ْ عید الفطر جون کے درمیانی حصے میں ہوگی تاہم وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں پارٹی کی حد سے باہر ہیں اور جو بھی اگلی حکومت بنائے گا وہ بھی اس ہی طرح کی حکمت عملی اپنائے گا۔

حکومت کو کئی سالوں سے اس مسئلے کا علم ہونے کے باوجود کوئی قانون منظور نہیں کیا جاسکا ہے۔خیال رہے کہ وزیر مذہبی امور کی جانب سے کیبنٹ سیکریٹریٹ کو دسمبر 2017 میں قانون کا ڈرافٹ بھیجا گیا تھا تاہم اسے اب تک اٹھایا نہیں گیا۔سردار یوسف کا کہنا تھا کہ 9 رکنی رویت ہلال کمیٹی کو 1974 میں قومی اسمبلی کے منظور کردہ قرارداد کے تحت قائم کیا گیا تھا تاہم اب اس کمیٹی میں 26 ارکان ہیں لیکن اسے اب تک آئینی اور قانونی حیثیت نہیں دی گئی ہے اور اس کمیٹی کے اراکین کے انتخاب کیلئے بھی کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔

معاملے کو پہلی مرتبہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور سینیٹر حافظ حمداللہ کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔جون 2016 میں انہوں نے وزارت سے اس معاملے کو حل کرنے کا کہتے ہوئے کہا تھا کہ اس تنازع کی اصل وجہ یہ ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کی آئینی و قانونی کوئی حیثیت نہیں ہے۔حکومت کو اس معاملے پر کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں 19 ماہ کا وقت لگا جس کے بعد انہوں نے دسمبر 2017 کو بل کا ڈرافٹ وفاقی کیبنٹ میں منظوری کے لیے بھیجا تھا۔

پیش کردہ بل میں کہا گیا کہ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان سے پہلے چاند کا اعلان کرنے والے ٹی وی چینلز کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ اس کی لائسنس کی معطلی کے حوالے سے بھی دیکھا جائے گا۔ڈرافٹ کیے گئے بل میں تجویز کی گئی تھی کہ چاند کے غلط شواہد دینے والے کو 6 ماہ جیل اور 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔دریں اثنا اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے رکن علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں ہونی چاہیے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ چاند کا اعلان کرے اور اسی دوران اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کا اس معاملے پر سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر ریاستی عناصر کو چاند دیکھنے میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔