عدالت نے مرغی کے گوشت اور خوراک کی رپورٹ مثبت آنے پر از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

ہفتہ اپریل 15:30

عدالت نے مرغی کے گوشت اور خوراک کی رپورٹ مثبت آنے پر از خود نوٹس کیس ..
لاہور۔21 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ مرغی کا گوشت اور فیڈ مضر صحت نہیں ہے اور کھانے کے قابل ہے، عدالت نے مرغی کے گوشت اور خوراک کی رپورٹ مثبت آنے پر از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔۔چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولٹری فیڈ سے متعلق از خود نوٹس کیس میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالتی حکم پر عدالتی معاون ڈاکٹر فیصل مسعود عدالت پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ مرغی کا گوشت مضر صحت نہیں ہے تاہم مرغی کے پنجوں میں جراثیم پائے جاتے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ ہم آپ کے شکرگزار ہیں، آپ نے ہر دکان، سٹور پر خود جا کر رپورٹ تیار کی ہے۔

(جاری ہے)

عدالتی معاون نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ تحصیل لیول پر انسپکٹرز تعینات کر دیئے گئے ہیں جو مرغیوں کی فیڈ سے متعلق رپورٹس حاصل کرتے رہیں گی. چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اچھی بات ہے کہ ہمارے معاملات جلد حل ہوں رہے ہیں. از خود نوٹسز پر حل نکلنا اچھی بات ہے اور خاص طور پر ریلوے والوں کو اعتراض نہ ہو کہ انکے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں150 سال سے ریلوے کا محکمہ قائم ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہی.عدالت نے تسلی بخش رپورٹ کی روشنی میں مرغیوں کے ناقص گوشت اور فیڈ سے متعلق از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔