ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے لڑیں گے، آئین میں جوڈیشل مارشل لاءکی کوئی گنجائش نہیں-چیف جسٹس کا لاہور میں تقریب سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ اپریل 15:08

ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے لڑیں ..
 لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 اپریل۔2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب مثار نے کہا ہے کہ ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے لڑیں گے، جس دن لگا قوم ساتھ نہیں رہی، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے، قائد اعظم کے ملک میں جمہوریت رہے گی،جوڈیشل مارشل لاءکا آئین میں کوئی وجود نہیں، یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے، ہمارے ذہن میں نہیں۔

پاکستان ہمیں خیرات میں یا بخشش میں نہیں دیاگیا،یہ ایک مسلسل جدوجہد ،قربانیوں اور بزرگوں کے تصور کانتیجہ ہے۔ایوان اقبال لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ قائد اعظم،، علامہ اقبال نے پاکستان کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہوتا تو پاکستان کا نصیب یہ نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جدوجہد میں کئی خاندانوں نے قربانیاں پیش کیں،کتنی بدنصیب ہیں وہ قومیں جن کا اپنا ملک نہیں۔

(جاری ہے)

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی صورت میں تحفہ دیا، اس کی اتنی بے قدری۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کو اہمیت دینے والی قومیں ترقی کررہی ہیں، پاکستان میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بجائے تباہ کیا جارہا ہے، بچوں کو تعلیم کا بنیادی حق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، بچوں سے تعلیم کا حق نہ چھینیں، انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں عوام کا نہیں، مجھے پاکستانی قوم کے چیف جسٹس کے طور پر فیصلے کرنے ہیں، عوام کے لئے بنیادی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ رات ایک کتاب موصول ہوئی جس کا سرورق پڑھا، ایک فیملی بھارت سے پاکستان آرہی تھی تو صرف ایک بچی زندہ بچ گئی، اس بچی کانام کنیز تھا،مجھے جو کتاب موصول ہوئی وہ اسی نے لکھی تھی، اس بچی کنیز نے کتاب میں پاکستان حاصل کرنےکی جدوجہدبیان کی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قائداعظم اورعلامہ اقبال کی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا،جنہوں نے پاکستان کیلئے اتنی قربانیاں دیں کیا انہیں ہم چکنا چور کردیں، میری نظرمیں سب سے پہلی ترجیح صرف اورصرف تعلیم ہے، وہ قومیں دیکھ لیں جنہوں نے تعلیم کاراستہ اپنایاوہ کہاں پہنچ گئیں، تعلیم سے متعلق میں کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کروں گا۔

انھوں نے سوال کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی زمین حکومت کودےدی گئی کیوں؟ زمین اس لیے دی گئی کیونکہ وہاں گرڈاسٹیشن تعمیرکرناہے، گرڈاسٹیشن ضروری ہے یا تعلیم،، بچوں کے مستقبل کاکیاہوگا، کسی ذاتی ایجنڈے پر چلنے والے پر لعنت بھیجتاہوں، میں صرف اور صرف بچوں کی تعلیم کے لئے یہاں آیاہوں۔۔چیف جسٹس نے اپیل کی خدا کا واسطہ بچوں سے تعلیم کا حق مت چھینو، ایک بچے سے پوچھا کیا بننا چاہتے تواس نے کہا ڈاکٹربنناچاہتاہوں، ہونہارطلبہ کوہم نے مشکل میں ڈال دیاہے، کیاتعلیم صرف پیسے سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے، تعلیم کے لئے آئینی ذمہ داری اداکرنے کے لئے تیارہوں، میری مددکریں اگر کامیاب نہ ہوا تو ساری زندگی خودکومعاف نہیں کرسکوں گا۔

خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بغیرواش روم6ہزاراسکول چل رہے ہیں، میں نے پوچھامعصوم بچیاں حاجت کے لئے کہاں جاتی ہیں، بتایاگیا بچیاں پیچھے کھیتوں میں حاجت کے لئے جاتی ہیں، ہمارے ٹیکس کاپیسہ کہاں خرچ ہوتاہے کون اس پرتوجہ دےگا، تعلیم حاصل کرناہماراحق ہے اس حق کو ہر صورت حاصل کریں، جووالدین اپنے بچوں کوتعلیم نہیں دیتے وہ مجرم ہیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انسان کی زندگی بڑی نایاب اور قیمتی ہے،انسان کیڑے مکوڑے نہیں، زندگی مارکھانے،قیدوبند،جہالت کیلئے نہیں دی گئی تھی، زندگی اپنے حقوق کے لئے دی گئی ،جو حق مانگتاہے، اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے، جن ہسپتالوں میں گیا وہاں سی سی یو نہیں، ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ، جو الٹراساو¿نڈکرسکے، 1300دوائیاں ہسپتالوں میں مفت تقسیم کرناچاہئیں، لیبارٹری ٹیسٹ والوں کوبھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، 1300میں سے1170دوائیاں ٹیسٹ کرلی گئیں، لیب والوں کوحکم دیاہے30دن کے اندرٹیسٹ رپورٹ دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے حقوق کے لئے علم بلندکیاہے کیامیں غلط کررہاہوں، عدلیہ مکمل آزاد ہے عوام کوان کے حقوق دلاکرجاﺅں گا، کوئی بھی فیصلہ کرتے ہیں تو شور ا ٹھتاہے، مارشل لامارشل لا، کس چیز کا مارشل لاکون لگائےگا ، مارشل لاکس میں ہمت ہے، یہ قائداعظم اوراقبال کاپاکستان ہے، پہلے بھی کہہ چکاہوں جس دن مارشل لگا میں چلا جاﺅں گا۔انھوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاءلگانے کی باتیں کرنےوالے اپنے ذہن صاف کریں ، جوڈیشل مارشل لاکاآئین میں کوئی وجودنہیں ہے، عوام کی حمایت سے انصاف کے فیصلے کررہے ہیں، جس دن عوامی حمایت ختم ہوجائے گی عدلیہ چلی جائے گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا کوئی اپنے ملک کی بے قدری کرتاہے؟ ووٹ کی عزت کی قدریہ ہے آئین مطابق عوام کی خدمت کریں، عوام کیلئے بنیادی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں ، ہرادارے اور شخص کی ذمہ داری ہے وہ انصاف فراہم کریں، ادارے اور شخصیات لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اس لیے وہ عدالت آتے ہیں۔انھوں نے سوال کیا کہ کیاانصاف فراہم کرنےکی ذمہ داری صرف عدلیہ کی ہے، اس ملک میں اوربھی ادارے ہیں انصاف دیناسب کی ذمہ داری ہے، مجھے معلوم ہے، اس وقت کتنے ججز کے پاس کتنے کیسز زیر التوا ہیں، بڑے بھائی کی حیثیت سے منتیں کررہاہوں کیسز کو جلد نمٹائیں، انصاف کمپیوٹر سے نہیں عقل سے ہوناہے، انصاف جدید تقاضوں کے مطابق فراہم کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جس قانون کے مطابق انصاف دیناہے اس پرتوجہ دی گئی؟ عرصہ پرانے قانون ہیں اورجدیدتقاضوں کاانصاف چاہتے ہیں، عدلیہ کو وسائل کس نے فراہم کرنے ہیں؟ جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہمارے ادارے کی خوبصورتی یہی ہے کہ دباﺅقبول نہیں کرتے، کبھی وکیل نہیں آتاتوکبھی مجرم کوپیش نہیں کیاجاتا، مختلف وجوہات ہیں، جس کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، مختلف مسائل کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکارہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کہا جاتا ہے میرٹس اورسنیارٹی پرتعیناتیاں نہیں ہوتیں پھر میرٹس اورسنیارٹی پرتعیناتیاں کس نے کرنی ہیں؟ خودکوکسی ذمہ داری سے الگ نہیں کرنا چاہتا، ایک جج کوایک کیس ڈیل کرنے کیلئے 3 منٹ ملتے ہیں، لوگوں کوبنیادی حقوق نہیں ملیں کے توعدالت ہی آئیں گے، مجھے بتائیں جونیچے کام ہو رہا ہے،اس کاجواب کون دے گا۔