نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں یہ میں بعد میں بتاﺅں گا۔راﺅ انوار

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ اپریل 15:23

نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں یہ میں بعد میں بتاﺅں گا۔راﺅ انوار
 کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 اپریل۔2018ء) سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے کہا ہے کہ نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں یہ میں بعد میں بتاﺅں گا۔۔کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راﺅ انوار نے کہا کہ نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں، یہ میں بعد میں بتاﺅں گا، مقدمے کا چالان جمع ہونے دیں سب پتہ چل جائے گا۔

صحافی نے سوال کیا کہ پولیس کے مطابق آپ کے سارے مقابلے جعلی تھے، جس پر راﺅ انوار نے کہا کہ جے آئی ٹی بننے کے بعد سب واضح ہوجائے گا، سب کو بتاﺅں گا پولیس مقابلے جعلی تھے یا نہیں۔اس سے قبل راﺅ انوار کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ، اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے تھے تاہم روانگی کے وقت راﺅانوار کو جیل لے جانے والی گاڑی خراب ہوگئی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب نجی ٹی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے را ﺅانوار احمد کو نقیب اللہ محسود اور تین3 دیگر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔ جے آئی ٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پولیس افسر راﺅ انوار کو معصوم شخص نقیب اللہ محسود کو جعلی انکاﺅنٹر میں قتل کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ڈاکٹر آفتاب پٹھان کی سربراہی میں کام کرنے والی جے آئی ٹی اپنی تحقیقات مکمل کرچکی ہے اور رپورٹ متعلقہ حکام کو جلد جمع کرائی جائے گی ،،سپریم کورٹ نے 21 مارچ کو کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کئی اجلاس ہوئے جن میں را ﺅانوار کے بیان قلمبند کیے گئے، اراکین نے ان مقامات کا دورہ بھی کیا جہاں سے نقیب کو اغوا کیا گیا اور شاہ لطیف ٹاﺅن میں جہاں اس کا انکاﺅنٹر کیا گیا۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر جے آئی ٹی بننے کے بعد واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایس پی انویسٹی گیشن عابد قائم خانی کا تبادلہ کردیا گیا ،اس کے بعد جے آئی ٹی کی منظوری سے ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد رضوان احمد کو واقعے کے تین مقدمے کا تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا تھا۔اس سے قبل7 اپریل کو نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر را ﺅانوار نے اپنی ٹیم کے ارکان پر سارا ملبہ ڈالا تھا، ذرائع کے مطابق بیان میں انہوں نے کہا کہ سہراب گوٹھ چوکی انچارج اکبر ملاح سمیت میری ٹیم کے 5 اہلکار نقیب اللہ معاملے میں ملوث ہیں۔

سندھ پولیس کے کچھ افسران میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔جے آئی ٹی ٹیم نے سہراب گوٹھ میں واقع ہوٹل کا دورہ کیا اور ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔ ملازمین نے بیان دیا کہ چوکی انچارج اکبر ملاح چند اہلکاروں کے ساتھ گاڑی میں آیا تھا، یہ اہلکار نقیب اللہ کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے گئے، راﺅ انوار ان کے ساتھ نہیں تھا۔