آزادی پسند کارکنوں کی گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں، سید علی گیلانی

پولیس نے لاقانونیت قائم کر رکھی ہے ، بیان

ہفتہ اپریل 16:13

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) حریت کانفرنس’’’گ‘‘ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پولیس کی جانب سے آزادی پسند قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر عملاً ایک پولیس اسٹیٹ ہے اور یہاں پر قانون نام کی کوئی چیز موجو دنہیں ہے ۔ پولیس نے حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی، آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، علام احمد گلزار ، محمد اشرف لایا ، عمر عادل ڈار ، سید امتیاز حیدر سمیت دوسرے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر کے تھانہ اور گھر نظر بند کر دیا ہے ۔

اپنے ایک بیان میں سید علی گیلانی نے پولیس کارروائی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس جب چاہے کسی بھی آزادی اور اسلام پسند فرد کو اپنی مرضی کے مطابق پابند سلاسل کر رہے ہیں اور انہیں اپنی پرامن سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں یہ لاقانونیت اور انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر میں فوج اور پولیس کے دم پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور سیاسی مکھوٹوں کو صرف خانہ پری کے لئے ہی کرسیوں پر براجمان کیا ہوا ہے جس کے ذریعے یہاں کے نہتے عوام کو بربریت اور دہشت کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کے بجائے یہاں کی آزادی پسند قیادت کو فوج اور پولیس کے ذریعے زیر کرنے کی اپنی دیرینہ پالیسی پر عمل پیرا ہو کر بھارت کے غاصب حکمران قبرستان کا امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔