تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم نظام رائج کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

مارکیٹوں میں رنگ گورا کرنیوالی کریموں سمیت شیمپو کی غیر قانونی فروخت کیخلاف تحریک التوائے کار بھی جمع کروا دی گئی

ہفتہ اپریل 16:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم نظام رائج کرنے کے مطالبے کی قرارداد اور مارکیٹوں میں رنگ گورا کرنے والی کریموں سمیت شیمپو کی غیر قانونی فروخت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کروا دی گئی ۔ تحریک انصاف کی ڈاکٹر نوشین حامد کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا نصاب یکساں نہیں۔

جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلباء اور والدین متاثر ہورہے ہیں۔متعدد اصلاحات کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر نہیں ہوا۔جس کا فائدہ نجی اور غیر ملکی ادارے بھاری فیسیں وصول کرکے اٹھا رہے ہیں۔یہ ادارے والدین سے من مانی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔جو کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں پر ایک بوجھ سے کم نہیں۔

(جاری ہے)

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پہلی سے انٹرمیڈیٹ تک تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں یک نصابی تعلیمی نظام رائج کرے۔

جبکہ تحریک انصاف کی نبیلہ حاکم کی طرف سے جمع کروائی گئی تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی 15 ہزار کریمیں اور شیمپو غیرقانونی قراردیے گئے ہیں۔ان کریموں کے استعمال سے خواتین جلد کی بیماریوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی 99 فیصد میک اپ کا سامان رجسٹرڈ نہ کرسکی۔ہر کمپنی رنگ گورا اور چہرہ نکھارنے کا دعویٰ کرتی نظر آتی ہے۔

لیکن کمپنیوں کے دعوؤں کے برعکس نتائج نکلتے ہیں۔کمپنیاں ان میں مرکری، پارہ اور سیٹرائزڈ استعمال کرتی ہیں۔جو کہ انسانی صحت اور جلد کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔مگر ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی اس حوالے سے مکمل خاموش دیکھائی دیتی ہے۔ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی قانون کے نفاذ کے باوجود کاسمیٹکس پراڈیکٹس ریگولیٹ کرنے میں ناکام۔محکمے کی کم عملی کے باعث ہزاروں خواتین جعلی اشیاء سے متاثر ہورہی ہیں۔