عدلیہ مکمل آزاد ہے، میرا وعدہ ہے ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے، سن کر حیرت ہوتی ہے جب کچھ اینکرز کہتے ہیں کہ مارشل لاء آرہا ہے، کون لگا رہا ہے مارشل لائ کس نے لگانے دینا ہی کس میں ہمت ہی قائداعظم اور علامہ اقبال کا تصور جمہوریت تھا، ملک میں صرف جمہوریت رہے گی ،سپریم کورٹ کے 17 ججز مارشل لاء نہیں لگنے دیں گے، کسی جوڈیشل مارشل لاء کا تصور ذہن میں ہے نہ آئین میں ہے، یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے

چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کایوم اقبال کی تقریب سے خطاب

ہفتہ اپریل 16:30

عدلیہ مکمل آزاد ہے، میرا وعدہ ہے ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے، ..
لاہور۔21 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ مکمل آزاد ہے، میرا وعدہ ہے ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے، سن کر حیرت ہوتی ہے جب کچھ ٹی وی چینلز کے اینکرز کہتے ہیں کہ مارشل لاء آرہا ہے، کون لگا رہا ہے مارشل لائ کس نے لگانے دینا ہی کس میں ہمت ہی یہ ملک صرف جمہوری ہے، قائداعظم اور علامہ اقبال کا تصور جمہوریت تھا، ملک میں صرف جمہوریت رہے گی، سپریم کورٹ کے 17 ججز مارشل لاء نہیں لگنے دیں گے۔

ہفتہ کولاہور میں یوم اقبال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان ہمیں خیرات یا تحفے میں نہیں ملا، یہ ملک مستقل جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے میں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تومیں نہیں ہوں گا لیکن اب کہتا ہوں کہ جس دن شب خون مارا گیا تو سپریم کورٹ کے 17 ججز نہیں ہوں گے، کسی جوڈیشل مارشل لاء کا تصور ذہن میں ہے نہ آئین میں ہے، یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے، کیوں لوگوں کو اضطراب میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے، ماورائے آئین کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں نے بنیادی حقوق کے لیے کام کیا، کیا کوئی غلط کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی صحت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جس ہسپتال میں گیا وہاں ایم آر آئی مشینیں نہیں، کہیں الٹرا ساؤنڈ مشین نہیں، خیبرپختونخوا میں الٹرا سائونڈ کرنے کے لیے لیڈی ڈاکٹرز کی ضرورت ہے، کیا یہ رائٹ ٹو لائف ہی 1300 دوائیاں جو ہسپتال میں مفت تقسیم کی جانی چاہئیں وہ نہیں مل رہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے تعاون سے آپ کے حقوق کے لیے لڑرہے ہیں، جس دن محسوس کیا اس حیثیت اور طاقت میں نہیں رہے، سمجھ آئی قوم سپورٹ نہیں کررہی تو کام نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ ہر عدالت میں جارہا ہوں، دیکھ رہے ہیں کیسی کارکردگی ہے، میںیہاں کوئی وضاحت دینے کے لیے نہیں آیا، کسی ذمہ داری سے اپنے آپ کو نہیں چھڑانا چاہتا لیکن کیا انصاف کرنا عدلیہ کی ہی ذمہ داری ہے، جس ادارے میں بے انصافی ہو ان کی ڈیوٹی ہے وہاں انصاف کریں کیونکہ جتنے لوگوں کے حقوق مارے جائیں گے اتنے ہی لوگ عدالت میں آئیں گے۔

چیف جسٹس میاںثاقب نثار نے کہا کہ سندھ میں پولیس لاء 1861 کا ہے، میرے پاس کوئی وسائل نہیں کہ ججز کی تعداد بڑھاؤں یا بلڈنگ بناؤں، مجھے وسائل دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پر الزام ہے عام کیسز کو ڈیل نہیں کررہے، ہم عام کیسز کو ڈیل کررہے ہیں، اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کررہے، میں کوئی عوامی چیف جسٹس نہیں، میں اس ملک اور قوم کا چیف جسٹس ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی صوبے کی بات نہیں کررہا، اپنی مرضی سے وائس چانسلر لگادیا جاتا ہے، کسی جگہ وی سی ڈھائی سال سے نہیں لگا کسی جگہ تین ماہ سے نہیں لگا، میرٹ کا کوئی تعلق نہیں، سنیارٹی کو مد نظر نہیں رکھا جاتا، یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے، اگر کام ٹھیک ہوں تو عدالتوں پر بوجھ نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے، تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، قوم کی بقا کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے، کیا ہم نے ایسے موقع پیدا کیے کہ جو بچہ ڈاکٹر بن کر ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے اسے بلا سفارش یا ایسا تعلیمی نظام میسر ہو جہاں جاکر وہ تعلیم حاصل کرسکے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں یہ تعلیم کا عالم ہے کہ بلوچستان میں 6 ہزار پرائمری اسکول پانی اور بیت الخلاء کے بغیر چل رہے ہیں، پینے کے لیے پانی میسر نہیں، پنجاب میں اسی طرح کی صورتحال ہے، کے پی کے میں بتایا گیا وہاں بہت اسکول ہیں، جہاں پانی اور چار دیواری تعمیر نہیں ہوسکی، یہ کون دے گا ہمارا ٹیکس کا پیسہ تعلیم پر خرچ نہیں ہوتا تو کہاں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے اوپر وہ کیفیت طاری کریں جس میں قوم کی خدمت کا جذبہ ہو، بنیادی حقوق دینے کا جذبہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ امتیازی کلچر کو ختم کرنا ہوگا، بنیادی حقوق کی ذمہ داری کس کی ہے، کیا وہ پوری کی گئی، یہ میری ڈیوٹی ہے اور اسے پرفارم کرنے کیلئے تیار ہوں، اس میں میری مدد کریں، اگر فیل ہوجاؤں تو اپنے آپ کو ساری زندگی معاف نہیں کر پاؤں گا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ یہ میری نسل اور قوم کا حق ہے، اس حق کو استعمال کریں، کہیں ہمیں تعلیم چاہیے، جو والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کررہے ہیں وہ مجرم ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انسان کی زندگی بہت نایاب اور قیمتی ہے، ہم کیڑے مکوڑے نہیں، کیا یہ زندگی بے چارگی، مار کھانے، کسمپرسی اور ناجائز قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے ہے یا منہ بندی کرنے کے لیے ہے، زندگی بولنے کے لیے ہے لیکن جب کوئی بولنے کی کوشش کرتا ہے اسے بولنے نہیں دیا جاتا۔