پلاسٹک کی آلودگی سے زمین اور سمندر زہریلے ہو رہے ہیں جس سے سمندری حیات اور ہماری اپنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے ،ْ مشاہد اللہ خان

ہماری زندگیوں کا انحصار حیاتیاتی تنوع، مختلف اقسام کے جانداروں اور ایکو سسٹم پر ہے ،ْوفاقیو زیر برائے موسمیاتی تبدیلی کا یوم ارض کے موقع پر پیغام

ہفتہ اپریل 16:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سے زمین اور سمندر زہریلے ہو رہے ہیں جس سے سمندری حیات اور ہماری اپنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے ،ْ ہماری زندگیوں کا انحصار حیاتیاتی تنوع، مختلف اقسام کے جانداروں اور ایکو سسٹم پر ہے۔ عالمی یوم ارض کے موقع پر جاری اپنے ایک پیغام میں وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ آلودگی بڑھنے سے مختلف اقسام کے جاندار اور ایکو سسٹم بھی تیزی سے ناپید ہو رہے ہیں۔

جس کی وجہ سے ہم بڑے پیمانے پر ماحول کو بہتر رکھنے والی اشیاء سے محروم ہو رہے ہیں جن کے اقتصٓادی اور معاشی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے جنگلات، آبی گزر گاہیں اور مچھلیوں کے سٹاکس میں بھی کمی آئی ہے اور جبکہ حرارت جذب کرنے والی گیسوں سے ہمارے کرہ ارض پر حدت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں خود ہماری اپنی بقاء کی بنیادوں کودرپیش خطرہ بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمارے کرہ ارض پر موجود تنوع اور انواع و اقسام کی اشیاء ہمیں خوراک، کپڑے، ایندھن، ادویات اور بہت کچھ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس دن کے موقع پر انسانی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے قدرتی وسائل کو بچانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ دن ہمارے لئے قدرتی وسائل کو بچانے کے حوالہ سے اہم ہے۔ واضح رہے کہ کرہ ارض کو آلودگی سے بچانے کے لئے یوم ارٖض 22 اپریل کو ہر سال منایا جاتا ہے اور اس سال کے لئے اس دن کا مرکزی موضوع ’’پلاسٹک آلودگی‘‘ کا خاتمہ ہے۔