ہراساں کرنا صرف ہاتھ ملانے ،گلے ملنے کی حد تک نہیں اس سے بڑھ کر تھا‘ میشا شفیع

جب ایک خاتون کو احساس ہو اسکے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اسے پورا حق ہے وہ اپنے لیے آواز اٹھائے

ہفتہ اپریل 16:40

ہراساں کرنا صرف ہاتھ ملانے ،گلے ملنے کی حد تک نہیں اس سے بڑھ کر تھا‘ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) معروف گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے کہا ہے کہ علی ظفر کی جانب سے جب پہلی مرتبہ جنسی ہراسگی کا شکار ہوئی تو اس لیے خاموش رہی کیونکہ وہ اور علی ظفر دونوں بڑے اسٹار تھے جن پر سب کی نظر ہوتی ہے۔میشا شفیع نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب علی نے پہلی مرتبہ مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا تو میں نے اپنے شوہر محمود رحمان کو بتایا جس پر ہم نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔

اس وقت میں نے سوچا کہ میں کون ہوں اور وہ کون ہی آخر یہ جو ہوا ہے یہ کہاں تک جائے گا اور بالآخر میں نے اس بات کو دفن کردیا۔انہوں نے بتایا کہ دوسری مرتبہ علی ظفر نے انہیں اس وقت ہراساں کیا جب وہ دونوں ایک کنسرٹ کے سلسلے میں جیم روم میں موجود تھے۔جب میشا سے سوال کیا گیا کہ آپ ایک مرتبہ علی ظفر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا شکار ہوچکی تھیں تو پھر آپ نے دوبارہ کیوں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے حامی بھری جس پر میشا نے جواب دیا کہ یہ گائیکی میری روزی روٹی ہے اور میرا کام مجھے مل رہا تھا میں انکار نہیں کرسکتی تھی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ میں لاہور میں کنسرٹ کے لیے اپنے بینڈز ممبرز کے ساتھ تیاری کر رہی تھی اور علی ظفر کو نظر انداز کر رہی تھی لیکن علی کوشش کر رہے تھے کہ وہ کسی بھی طرح مجھ سے بات چیت کر سکیں، میرے قریب آسکیں اور یہ صورتحال میرے لیے مشکل ہو رہی تھی۔ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت تو علی کے ساتھ آپ کی تصاویر بھی موجود ہیںجن میں آپ کی ان کے ساتھ کافی قربت نظر آرہی ہی جس پر میشا کا کہنا تھا کہ وہ تصاویر سب کے ساتھ ایک گیدرنگ میں لی گئی تھیں۔

تاہم ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے جب پہلے آواز نہیں اٹھائی تو اب کیسے ہمت کی ۔میشا شفیع نے جواب دیا کہ کیونکہ اب میں جواب دینے کے لیے تیار ہوں، میں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، جس پر مجھے لگا کہ اب میں زیادہ دیر تک مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ارد گرد لڑکیاں اور خواتین اپنے لیے آواز اٹھا رہی ہیں اور یہاں کی خواتین بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں جس نے مجھے ہمت دی اور حوصلہ دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ان لڑکیوں کی ہمت کی داد دیتی ہوں جنہوں نے سابق پٹاری سی ای او خالد باجوہ کے خلاف آواز بلند کی جو کہ آسان نہیں تھا کیونکہ وہ لڑکیاں کوئی خاص شخصیات نہیں تھیں، لیکن یہ میرے لیے اور مشکل تھا بلکہ سب کے لیے ہی مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے جتنا اس بارے میں سوچا اتنا ہی مجھے احساس ہوا کہ مجھے بھی سچائی سامنے لانی چاہیے، اگر میں نہیں لائی تو تبدیلی نہیں آسکے گی اور یہی چیز میرے اندر ہی اندر مجھے کھا رہی تھی اور میرے ضمیر پر بوجھ بڑھا رہی تھی۔

انٹرویو کے دوران میشا کا کہنا تھا کہ جب میں اپنے بچوں کو یہ ہدایات دیتی ہوں کہ جب بھی کچھ غلط ہو تو خاموش نہیں رہنا تو پھر میں کیسے خاموش رہ سکتی تھی، جبکہ مجھے پتہ تھا کہ یہ کوئی حادثہ یا بے دھیانی میں کیا گیا کام نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہراساں کرنا صرف ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی حد تک نہیں تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تھا اور جب ایک خاتون کو احساس ہو کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اسے پورا حق ہے کہ وہ اپنے لیے آواز اٹھائے اور سب کو بتائے اور یہ حق کوئی چھین نہیں سکتا۔

میشا شفیع کا کہنا تھا کہاس سے قبل میں یہ سب بتانے میں کافی شرم محسوس کرتی تھی لیکن جتنا زیادہ میں نے لوگوں کو اس سے آگاہ کیا اتنی ہی میرے اندر طاقت بڑھتی گئی کہ میں سب کو بتائوں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ میں نے وہ کام کیا ہے جس سے مجھے خوف آتا تھا، میں نے ایک اندھی چھلانگ لگائی ہے۔

متعلقہ عنوان :