سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں پنجاب یونیورسٹی میں نیا وائس چانسلرتعینات کرنے حکم دیدیا

ہفتہ اپریل 17:40

سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں پنجاب یونیورسٹی میں نیا وائس چانسلرتعینات ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں پنجاب یونیورسٹی میں نیا وائس چانسلرتعینات کرنے حکم دے دیا جبکہ قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ذکریا زاکر نے استعفیٰ عدالت میں پیش کر دیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے قائم مقام وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر ذکریا زاکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس لئے تعینات کیا گیا کہ آپ سے جا ئز ناجائز کام لیا جا سکے۔

چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کی 80 کنال اراضی پنجاب حکومت کودینے پر قائم مقام وائس چانسلر کوعہدے سے ہٹاکر سینئرترین پروفیسرکوعبوری وائس چانسلرتعینات کرنے کا حکم دیدیا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ثابت ہو گیا حکومت جائز و ناجائزمطالبات منوانے کیلئے مستقل وائس چانسلرتعینات نہیں کرتی، اڑھائی برسوں سے مستقل وائس چانسلرتعینات کیوں نہیں کیاگیا، آگاہ کیاجائے کہ تاخیرکا ذمہ دارکون ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنڈیکیٹ نے کس حیثیت سے یونیورسٹی کی اراضی حکومت کو دی جبکہ عدالت کے علم میں ہے کہ اراضی اورنج لائن منصوبے کیلئے فراہم کی گئی۔

عدالت نے زمین فراہم کرنیوالے سنڈیکیٹ ممبران کو اجلاس کی تفصیلات سمیت طلب کرلیا ہے۔ خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ عدالت وائس چانسلرمعطلی کے فیصلے پر نظرثانی کرے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی بچوں کی جگہ پرگرڈ اسٹیشن بنانے کا کہہ سکتا ہے، وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر ذکریا نے استدعا کی کہ میں اپنے عہدے سے استعفے دے دیتا ہوں، چیف جسٹس نے حکم دیاکہ پہلے آپ استعفیٰ دیں، پھرجائزہ لیں گے، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے اپنا استعفیٰ سپریم کورٹ میں جمع کروادیا۔

جس پر عدالت نے چھ ہفتوں میں پنجاب یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم دے دیا، دریں اثناء سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے تین میڈیکل یونیورسٹیوں کے مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کیلئے نئی سرچ کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ فاطمہ جناح،، فیصل آباد اور راولپنڈی یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلرز بھی زیر غور آئیں گے،،فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل ہیں، عدالتی معاون عائشہ حامد نے بتایا کہ فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر سردار فرید ظفر ہیں، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر پروفیسر محمد عمر ہیں، عدالت نے تینوں میڈیکل یونیورسٹیوں کی پہلی سرچ کمیٹیوں کی حیثیت پر عدم اعتمادکا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت پنجاب کو حکم دیا کہ جید اور قابل لوگوں پر مشتمل نئی سرچ کمیٹیاں بنائی جائیں۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی میرٹ کے خلاف تعیناتی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کی تعیناتی کا معاملہ نمٹا دیا ۔ عدالت کا سرچ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بہترین امیدوار کو وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر تنویر نے استعفیٰ عدالت میں پیش کر دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خوشی ہے کہ عدالت کی قائم کردہ سرچ کمیٹی نے 3 بہترین امیدوار نامزد کئے ہیں، عدالت کی سرچ کمیٹی نے جامع انٹرویوز کے بعد امیدوار نامزد کئے ہیں، سرچ کمیٹی کا کہنا تھا کہ انٹرویو کے بعد معیار پر پورا اترنے والے 3 امیدواروں کی سمری وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ بس یہاں ہمارا دائرہ اختیار ختم اور حکومت کا کام شروع ہو جاتا ہے، سرچ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تعیناتیاں وزیر اعلیٰ اور گورنر کا اختیار ہے، امید ہے کہ حکومت بہترین امیدوار کو نشتر میڈیکل کالج کا وائس چانسلر تعینات کریگی۔