مقبوضہ کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مجاہدین کی صفوں میں شمولت کا سلسلہ تیزی سے جاری

ہفتہ اپریل 17:52

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں اعلیٰ تعلیم یافیہ نوجوانوں کی مجاہدین کی صفوںمیںشمولت کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایم فل ڈگری کا حامل نوجوان زبیر احمد وانی بھی مجاہدین میں شامل ہو گیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق زبیر احمد وانی کا تعلق اسلام آباد کی تحصیل ڈورو شاہ آبا د کے گائوں آڈدہرنہ سے بتایا جا رہا ہے اور ا س نے بھوپال کی ایک یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

سرینگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز کی طرف سے ضلع شوپیاں کے علاقوں کچ ڈورہ اور ڈارگڈ میں یکم اپریل کومحاصرے اور تلاشی کی دو بڑی کارروائیوں جن میں16کشمیر ی نوجوان شہید کیے گئے تھے کے بعدعلاقے کے سات نوجوان لاپتہ ہو چکے ہیںجنکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مجاہدین میں شامل ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

ہاتھوں میں کلاشنکوف لیے زبیر احمد وانی کی تصویر ان دونوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ مجاہدین میں شامل ہو گیا ہے۔

رواں برس اب تک یہ تیسرا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہے جو کسی مجاہد تنظیم میں شامل ہوا۔ تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کا بیٹا جنید اشرف بھی 24مارچ کو مجاہدین میں شامل ہوا تھا۔ جنیدنے کشمیریونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ رواں برس جنوری میں کپواڑ ہ کا رہائشی نوجوان منان بشیر وانی مجاہدین میں شامل ہوا تھا وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔

ضلع شوپیاں کے تین اور نوجوان ادریس سلطان، عابد نذیر اور عمر جاوید بھی مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ادریس سلطان بھارتی فوج میں تھا جبکہ عابد نذیر نے بی ٹیک کر رکھا ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی سیکرٹری داخلہ راجیو گوبا نے مارچ میں مقبوضہ داری کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران کشمیری نوجوانوں کی مجاہدین کی صفوں میں تیزی سے شمولت پر سخت تشویش ظاہر کی تھی ۔