منگھوپیر واقعہ پر پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی پر الزام تراشی بے بنیاد ہے ،فردوس شمیم نقوی

ہفتہ اپریل 18:16

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ سترہ اپریل دو ہزار اٹھارہ کو منگھوپیر روڈ پر ایک معصوم بچی کی لاش رکھ کر احتجاج کیا گیا جو بچی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بچی کے ورثاء اور علاقہ مکین مل کر کررہے تھے۔ بچی کے والد بقا محمد اور بچی کے دادا نے پی ٹی آئی رہنمائوں سے مدد کی اپیل کی تاکہ چیف جسٹس اور اعلیٰ افسران انہیں انصاف دلائیں۔

اس پر پی ٹی آئی رہنمائوں نے میڈیا اور پارٹی کے لوگوں سے رابطہ کیا۔ اتنی دیر میں پولیس نے بچی کے قاتلوں کی بجائے کسی اور کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کاٹ دی تھی۔ بچی کے والد نے اسے جھٹلایا اور مطالبہ کیا کہ حقیقی ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پی ٹی آئی رہنمائوں نے بچی کی تدفین کے لیے کہا اور لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ احتجاج ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔

(جاری ہے)

اس کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ پی ٹی آئی رہنمائوں نے ایمبولینس کو لے جانے کے لیے پولیس کی مدد کی جس پر ہجوم نے روک لیا۔ اس پر ہمارے رہنمائوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اس احتجاج سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ہٹنے لگے۔ پھر پولیس نے ہجوم پر لاٹھی چارج شروع کیا تو کچھ لوگ زخمی ہو گئے اور دو افراد ہلاک ہوئے اور پی ٹی آئی رہنما وہاں سے جاچکے تھے۔

دوسرے دن ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ہم سے درخواست طلب کی تھی ، جو ہم نے دی لیکن مقدمے میں ہمارے ہی خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔ پولیس بجائے بچی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے احتجاج میں موجود لوگوں پر ہی فائرنگ کرنے لگی۔ پولیس کے ایک اہلکار کو پتھر لگا تھا جو علاقہ مکینوں میں سے کسی نے مارا ہوگا، لیکن ایک پتھر کی سزا دو افراد کو قتل کرنا تو نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قتل ناحق تو پولیس کے لیے گویا کوئی بات ہی نہیں ہے۔ وہ کراچی کے شہریوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح ہلاک کرتے پھرر ہے ہیں اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس سارے واقعے کا الزام پی ٹی آئی کے سر ڈال رہی ہے۔ بغیر کسی ثبوت کے اور بغیر واقعے کی تفصیلات جانے آپ کسی پر کیسے الزام لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک امن پسند سیاسی تحریک ہے جو لوگوں کے مسائل پر پر امن احتجاج تو کرتی ہے لیکن ہم ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو ناحق قتل نہیں کرتے۔

پاکستان تحریک انصاف کا اس سارے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بچی کے قاتلوں کو اور جن لوگوں نے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں ، گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی گھنائونی حرکت کا سوچنے سے بھی ڈرے۔