مقبوضہ کشمیر میں عملی طور پر مارشل لاء نافذ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس

بھارتی پولیس نے آسیہ اندابی کو ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر لیا

ہفتہ اپریل 18:29

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں عملی طور پر مارشل لا ء نافذ ہے جہاں لوگوں کے تمام بنیادی حقوق اور آزادیاں سلب کر لی گئی ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حریت رہنمائوں کو بار بار نظر بند کرنے اور تمام مقبوضہ علاقے کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کرنے پر کٹھ پتلی انتظامیہ کی شدید مذمت کی ۔

بیان میں کہا گیا کہ قابض انتظامیہ جبر واستبداد کے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑ نہیں سکتی اور وہ اپنی تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے۔ بھارتی پولیس نے دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو انکی ساتھیوں فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین اور ایک پارٹی کارکن کے ہمراہ اسلام آباد کے علاقے آنچی ڈورہ سے گرفتار کیا ۔

(جاری ہے)

گرفتاری کے بعد انہیں اسلام آباد قصبے کے صدر تھانے میں نظر بندکردیا گیا۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں سراج الدین میراور عبدالرشید مغلوپر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے انہیں جموںخطے کی کوٹ بھلوال جیل میں منتقل کر دیا ہے۔ جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے قابض انتظامیہ کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

دریں اثنا ضلع بڈگام کے علاقوں چاڈورہ اور پانزن میں طلباء نے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے مجرموں کو سزا دینے کے مطالبے کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ بھارتی پولیس اور فوجیوں نے احتجاج کرنے والے طلباء کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیاجس کے بعدطلباء اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

جھڑپوں کے دوران ایک طالبہ زخمی ہوئی۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کم سن بچی کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف طلباء کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے وادی کشمیر میں بیشتر ہائر سیکنڈری سکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔۔سرینگر میں لالچوک کے مختلف بازاروں کے تاجروں نے آصفہ بانو کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی کے مطالبے کے حق میں آج علامتی طورپر ایک گھنٹے کی ہڑتال کی۔۔بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے نئی دہلی کی ایک عدالت میں معروف آزادی پسند رہنما سید صلاح الدین کے بیٹے شاہد یوسف کے خلاف 2011ء میں درج کئے گئے ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں چارج شیٹ پیش کی۔