لائن آف کنٹرول پر رہنے والے کشمیری پاکستان کی سیکنڈ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں ‘

متاثرین کسمپرسی اور مسائل کا شکار ہیں وفاق اور آزاد کشمیر کی حکومتیں متاثرین کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں ‘ان علاقوں کیلئے پختہ بنکرز موبائل طبی یونٹ اور خصوصی پیکجز دہیے جائیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کی بات چیت

ہفتہ اپریل 19:25

کوٹلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر رہنے والے کشمیری پاکستان کی سیکنڈ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں متاثرین کسمپرسی اور مسائل کا شکار ہیں وفاق اور آزاد کشمیر کی حکومتیں متاثرین کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں ان علاقوں کے لیے پختہ بنکرز موبائل طبی یونٹ اور خصوصی پیکجز دہیے جائیں ‘بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہیں کر سکا بھارتی فوج اس ناکامی کا بدلہ لائن آف کنٹرول پر روزانہ بلا اشتعال فائرنگ کر رہی ہے جس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر رہنے والے کشمیری شدید مشکلات کا شکار ہیں حکومت انکی مشکلات کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے وہ آج یہاں کنٹرول لائن کے متاثرین کے وفود سے گفتگو کررہے تھے انہوں نے کہا کہ متاثرین کنٹرول لائن کی مشکلات کو کم کرنے کے لہیے اسمبلی میں آواز اٹھائی جائے گی وفاقی حکومت فوری طور پر متاثرین کیلہے خصوصی پیکجز دے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج نے ظلم ستم اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے کیمیائی ہتھیاروں سمیت ممنوعہ ہتھیار پیلٹ گنوں کے ذریعے کشمیر یوں کو آپاہج کیا جا رہا ہے کریک ڈان کے نام پر پوری مقبوضہ وادی کو محاصرے میں لیا ہوا ہے گائوں کے گائوںجلا کر خاکستر کر دیے گئے ہیں اور سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے کشمیر یوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے جا رھے ہیں لیکن ان تمام تر مظالم ڈھائے جانے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہیں کر سکا اقوام عالم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ان مظالم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی یہ منفرد تحریک ہے جس میں بلٹ کا جواب بلٹ کے بجائے پتھروں اور لاٹھیوں کے ساتھ دیا جا رہاہے کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول تک جہدوجہد کو ترک نہیں کر یں کے۔