علاقائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی ملکی معیشت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، ہنر مندی بیروزگاری کی ضد ہے‘عائشہ غوث پاشا

بجٹ 2018-19میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا فروغ اولین ترجیح ہو گی‘صوبائی وزیر خزانہ کا تقریب سے خطاب

ہفتہ اپریل 19:32

علاقائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی ملکی معیشت میں انقلاب برپا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے ہوئے زیورات ، ملبوسات، برتن اور آرائشی سامان ہمارے ہاں روایت اور دنیا بھر میں صنعت کی حیثیت رکھتے ہیں،علاقائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی ملکی معیشت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ بجٹ 2018-19میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)کا فروغ اولین ترجیح ہو گی،،حکومت پنجاب مقامی صنعتوں کے فروغ کے لیے نجی شعبہ کو بھرپور معاونت فراہم کرے گی، ہنر مندی بیروزگاری کی ضد ہے، نوجوانوں کو بیروزگاری سے نجات کے لیے مہارتوں کے حصول کی جانب راغب کر رہے ہیں تاکہ وہ ملازمتوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے کاروبار اختیار کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے رائل پام کنٹری کلب میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ نڈسٹریز کے زیر اہتمام - -"ذوق وہنر -- "کے عنوان سے گھریلو دستکاریوں اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لیے منعقدہ نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر کا کام پرائیویٹ سیکٹر کی آبیاری ہے ۔ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے پھیلائو کے لیے توانائی، انفراسٹریکچر اورکاروبارکے مسائل حل کر رہی ہے ۔

سرمایہ کاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ صنعتیں لگائیں اور بیروزگار افراد کو روزگار فراہم کریں۔ بجٹ سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت ،صحت ، تعلیم اور پینے کا صاف پانی حکومتی ترجیحات تھیں اور رہیں گی۔مقامی پیداوار میں اضافے اور ایکسپورٹ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی تیاری کا عمل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ بجٹ کا اعلان اور منظوری موجودہ حکومت دے گی یا آئندہ۔

بجٹ عبوری ہو گا یا مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے نمائش میں سجائے گئے زیورات، گھریلو دستکاریوں، ملبوسات ،صاف پانی،، آرائشی سامان ، میک اپ کے مقامی برانڈز اور ہاتھ سے چلنے والی مشینوں کے مختلف سٹالز کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ملک طاہر جاویداور ایگزیکٹو کمیٹی کے مالکان شریک تھے۔ ملک طاہر جاوید نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ ہمارے ہاں علاقائی ملبوسات اور زیورات کی صنعت سے زیادہ تر خواتین وابستہ ہیں جو بہترین کام کر رہی ہیں۔

انھیں اگر عام مارکیٹ میں آنے کے مواقع میسر آئیں تو نہ صرف چھوٹے کاروبار اور صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ مہنگائی میں بھی کمی واقع ہو گی ۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کشیدہ کاری کرنے والی خواتین اور سوات کے ووڈ آرٹ کو خصوصیت سے سراہا اور حکومت پنجاب کی جانب سے خواتین کی ترقی اور ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔