علامہ اقبال نے مغربی جمہوریت پر تنقید ضرور کی مگر وہ جمہوری نظام کے مخالف نہیں تھے ‘سینیٹر پروفیسر ساجد میر

اقبال کا تصور جمہوریت آج بھی قابل عمل ہے، انہوں نے دین اور سیاست کی یکجائی کا خواب بھی دیکھا‘امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث

ہفتہ اپریل 19:32

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ علامہ اقبال نے مغربی جمہوریت پر تنقید ضرور کی مگر وہ جمہوری نظام کے مخالف نہیں تھے ،انہوں نے پاکستان کیلئے اپنے جمہوری تصور کے خدوخال پیش کیے۔ اقبال کا تصور جمہوریت آج بھی قابل عمل ہے ، انہوں نے دین اور سیاست کی یکجائی کا خواب بھی دیکھا،جو سیاست اخلاقی احساسات سے عاری ہوکر سراسر مادی مفادات سے عبارت ہو کر رہ جائے وہ لا محالہ چنگیزی بن جاتی ہے،،علامہ اقبال نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ اسلام معاشرے میں مکمل اور غیر مشروط مساوات کا قائل ہے۔

اس امر کا اظہار ا نہوں نے شاعر مشرق،، حکیم الامت مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی یاد میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان کارکنان میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے چیف جسٹس ر میاں محبوب احمد،صاحبزادہ سلطان احمد علی، سیکرٹری شاہد رشید سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور حاکم بھی قانون کے تابع ہو۔

عوام کو مساوی مواقع اور حقوق حاصل ہو انکے درمیان کسی قسم کا امتیاز روا نہ رکھا جائے۔ ہر فرد کو بلا امتیاز مذہب رنگ اور نسل، ترقی اور نشوونما کا موقع مل سکے۔ علامہ محمد اقبال کی خدمات برصغیر کے مسلمانوں کو جگانے کیلئے ناقابل فراموش ہیں۔ علامہ اقبال کے افکار پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کی ترقی کرسکتا ہے ۔ ان کی تعلیمات و افکار میں قوم کیلئے ایک تڑپ موجود ہے۔

ان کی سوچ کا ہر پہلو ملت کیلئے اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔اقبالؒ کبھی اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر مسلمانوں کالہو گرماتے ہیں کبھی افلاک پر کمند ڈالنے کو کہہ کر نوجوانان اسلام کو دعوت عمل دیتے ہیں۔عقاب و شاہین کی تمثیل سے نوجوانوں کو بلند خیالی اور بلند پر وازی کا درس دیتے ہیں۔ آج کے نوجوان طبقہ کو اقبال ؒ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک مضبوط ترقی یافتہ قوم بننے کا مصمم ارادہ کرنا ہوگا تاکہ وطن عزیز پاکستان کو دنیا کی مثالی و فلاحی مملکت بنایا جا سکے۔