ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی ) کا کل پریس کلب پر پانی و بجلی کے بحران مظاہرے کا اعلان

عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں،فاروق ستار کی پریس کانفرنس

ہفتہ اپریل 19:36

ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی ) کا کل پریس کلب پر پانی و بجلی کے بحران ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کل اتوار کی سہ پہر 3بجے پریس کلب کے باہربجلی و پانی کے بحران کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی اس مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی ہے،اور کراچی کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں، چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے وہ اس عوامی مسئلہ پر ازخود نوٹس لیں کیوں کہ کراچی کے عوام بجلی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے سخت اذیت کا شکار ہیںانھیں شدید گرمی کے موسم میں اس عذاب سے نکالا جائے پانی و بجلی کے مسئلہ پر کراچی میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہوسکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو اپنی رہائشگاہ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ان کے ہمراہ رابطہ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمارا یہ احتجاجی مظاہرہ کے الیکٹرک اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے خلاف ہے ان دونوں محکموں کی ناکامی کے باعث ہرسال گرمی کے موسم میں کراچی کے شہریوں کو اس ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے بجلی کی گھنٹو ں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کراچی کی شہری ، صنعتی، زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اس موسم میں امتحانات دینے والے طلباکی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے۔

جبکہ کراچی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے پورے ملک سے لوگ کراچی منتقل ہورہے ہیں ہر سال کراچی میں تقریبا ایک لاکھ افراد آرہے ہیں جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کراچی کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی دس سالوں سے حکومت ہے اس کے دور حکومت میں پانی کے ایک قطرے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ کے فور منصوبہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ 2020میں بھی مکمل ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ 6ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا جانے والا پانی کا منصوبہ جس سے 65ایم جی پانی کراچی کو ملتا یہ منصوبہ بھی سندھ حکومت شروع نہیں کرسکی، انھوں نے کہا کہ اگر کراچی کو منصفانہ طریقے سے بھی پانی تقسیم کیا جائے تو اس سے بھی پانی کی کمی کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ بلدیہ ٹان کو سال میں صرف چار مرتبہ پانی دی جاتا کراچی کے کئی علاقے کربلا کا منظر پیش کر رہے ہیں، کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں حاصل نہیں کراچی شہر کو کچرے کا ڈھیر بنادیا گیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کے عوام کی داد رسی سننے کے لئے تیار نہیں کراچی کے عوام کہاں جائیں کس سے اپنی فریاد کریں۔۔کراچی کے شہریوں کو فضلہ ملا پانی پلایا جارہا ہے ، چیف جسٹس کے احکام پر واٹر کمیشن بنایا گیا ہے جو اپنی ذمے داری نبھارہا ہے۔جسٹس مسلم ہانی وزیر بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ کو بلاکر ڈانٹ ڈپٹ کرچکے ہیں لیکن سندھ حکومت اور ان اداروں نے بے حسی کی حد ختم کردی ہے۔

پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کرچی دشمنی میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ پانی و بجلی کے مسئلے پر کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے اور لسانی فساد بھی کھڑے ہوسکتے ہیں۔۔ڈاکٹر فاروق ستار نے اگر اتوار کے روز ہماری جانب سے کئے جانے والے احتجاجی مظاہرے کے بعد بھی کراچی کے پانی و بجلی کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو ہم اگلے مرحلے میں وزیر اعلی ہاس اور متعلقہ اداروں کا گھیرا کریں گے۔

وفاقی و صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی ، کے الیکٹرک کے حوالے سے وفاقی وزیر پانی و بجلی،، اور گیس و پیٹرولیم کو بیٹھائے اور یہ لوگ متعلقہ محکموں کے افسران کو بلا کر مسئلہ کو حل کریں ۔ انھوں نے کہا کہ میں خود پانی و بجلی کے وزیر عابد شیر علی سے فون پر بات کرچکا ہوں، اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے دفاتر وفود کو بھیج چکا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے عوام وفاقی حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس اور صوبائی حکومت کے خزانے میں سب سے زیادہ پیسہ جمع کروا رہے ہیں، اور تمام ٹیکس اور پانی،، بجلی ، گیس ، کے بل ادا کر رہے ہیں میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیا کراچی کے شہری ٹیکس اور بل ادا کرنا بند کردیں کیوں کہ انھیں ٹیکس اور بلوں کی ادائیگی کے بعد بھی یہ سب سہولتیں نہیں مل رہی ہیں۔

کے الیکٹرک کو پچھلے سال کراچی سے 35ارب روپے کا منافع ہوا تھا اور اس سال پچاس ارب کا منافع ہوا ہے۔ وہ اس منافع سے فرنس آئل خرید کر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو حل کریں۔انھوں نے کہا کہ موجود حکومت ختم ہونے جارہی ہے اور نگراں حکومت کا قیام عمل میں آنے والا ہے اس دوران سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ وہ تمام معاملات پر نظر رکھے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے نگراں وزیر اعظم کے لئے چار نام دے دیئے ہیں جن میں تصدق گیلانی، ڈاکٹر عشرت حسین، حفیظ پاشا، اور معروف صنعتکار عبدالرزاق داد شامل ہیں، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میں تو بہادرآباد والوں سے معاملات ٹھیک کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور ثالث بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن لگتا ہے وہ حالات کو بہتر نہیں بنانا چارہے، انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنے پہلے دورہ کراچی میں مجھ سے ملاقات خانہ پری کے لئے کی تھی اور صرف ملاقات کے لئے 15منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔

اور اب دوبارہ اپنی کراچی آمد کے موقع پر مجھ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ مسلم لیگ ن اپنے غیر جمہوری رویہ کی وجہ سے آہستہ آہستہ تنہاہوتی جارہی ہے۔