جب کے الیکٹرک کو پرائیویٹائز کیا گیا تب سندھ حکومت کو معاہدے سے بالکل دور رکھا گیا ،یہاں تک کہ معاہدے کی کاپی تک سندھ حکومت کو نہیں دی، مراد علی شاہ

کے الیکٹرک کو ریگیولیٹ کرنے کی ذمہ داری نیپرا کی بنتی ہے،اگر کے الیکٹرک اپنی گنجائش کے مطابق بجلی پیدا نہیں کرتا تو یہ نیپرا کی نااہلی ہے ،وزیراعلیٰ کا وفاقی وزیرپانی و بجلی اویس لغاری کوجوابی خط

ہفتہ اپریل 19:49

جب کے الیکٹرک کو پرائیویٹائز کیا گیا تب سندھ حکومت کو معاہدے سے بالکل ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) وزیرا علی سندھ سید مراد علی شاہ نے اویس لغاری کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا کہ جب کے الیکٹرک کو پرائیویٹائز کیا گیا تب سندھ حکومت کو معاہدے سے بالکل دور رکھا گیا اور سندھ حکومت کو اس معاہدے میں شریک نہیں کیا گیا،یہاں تک کہ وفاقی حکومت نے معاہدے کی کاپی تک سندھ حکومت کو نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن، بلنگ کی تقسیم اور وصولی پر نجی ادارے کو مونوپولی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو ریگیولیٹ کرنے کی ذمہ داری نیپرا کی بنتی ہے،اگر کے الیکٹرک اپنی گنجائش کے مطابق بجلی پیدا نہیں کرتا تو یہ نیپرا کی نااہلی ہے اور یہ نیپرا کے خود کے خلاف چارج شیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نہ صرف بجلی کی سپلائی میں نا اہل ثابت ہوا بلکہ شہریوں سے مسلسل زائد بل بھی وصول کررہی ہے اورکے الیکٹرک کے خلاف صارفین نے زائد بلنگ کی شکایات نیپرا کو ہزاروں بار کی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ نیپرا کا زائد بلنگ کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا ان کی مجرمانہ خاموشی و غفلت ہے۔انہوں نے کہا کہ اویس لغاری نے سندھ حکومت پر یہ بہتان لگایا ہے کہ سندھ حکومت کے الیکٹرک کے پرانے واجبات ادا نہیں کررہی جبکہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے وقت واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ عدالت میں تھا اور ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے وقت ان واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے وفاقی حکومت نے خود گارنٹی دی تھی۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے بعد سندھ حکومت واٹر بورڈ کے بجلی کے بل وقت پر ادا کرتی ہیجبکہ واٹر بورڈ کے وفاقی اداروں کے خلاف 1.08 ارب روپے کے پانی کے بلوں کے واجبات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار وفاقی حکومت کو کہا ہے کہ متعلقہ واجبات واٹر بورڈ کو دیئے جائیں لیکن کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔وزیر اعلی سندھ نے اپنے خط میں اس بات کا ذکر بھی کیا کہ اداروں میں بلنگ اور گیس سپلائی کے تنازعہ کو بجلی کے پیداوار سے منسلک نہ کیا جائے۔

سندھ حکومت چاہتی ہے کہ کے الیکٹرک کو پوری گیس دی جائے تاکہ کراچی کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔انہوں نے کے الیکٹرک کو تنبیہ کی کہ اگر کے الیکٹرک صحیح طورپر کام نہیں کرے گی تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔۔کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی میں تنازعہ ختم کرنے کیلئے TORs بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب فوری طور پر بجلی پیدا کرنے کیلئے کے الیکٹرک کو گیس فراہم کی جائے۔یوٹیلٹی کمپنیز کے تنازعات کے باعث کراچی کے عوام کو سزا نہ دی جائے۔وزیراعلی سندھ نے اویس لغاری کو بتایا کہ وہ وزیراعظم کو بھی کہہ چکے ہیں کہ اس تنازعہ کے خاتمہ کی ذمہ داری وفاقی حکومت لے۔ وزیر اعلی سندھ نے اویس لغاری کو مسئلے کے فوری حل کا بھی مشورہ دیا۔