کوئی جو مرضی کہتا رہے سپریم کورٹ کی کسی آبزرویشن پر تبصرہ نہیں کروں گا ،ْسعد رفیق

کی تباہی کو پانچ سال میں خوشحالی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ،ْوزیر ر یلوے کی گفتگو

ہفتہ اپریل 19:54

کوئی جو مرضی کہتا رہے سپریم کورٹ کی کسی آبزرویشن پر تبصرہ نہیں کروں ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کوئی جو مرضی کہتا رہے سپریم کورٹ کی کسی آبزرویشن پر تبصرہ نہیں کروں گا۔راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر خیبرمیل کے نئے ریک کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بنیادی طور پر ریلوے میں 65 سال تک بہت کم سرمایہ کاری کی گئی اور جو کی گئی اس کی سمت بھی درست نہیں تھی، 65سال کی تباہی کو پانچ سال میں خوشحالی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، ہمیں اسی رفتار سے مزید دس سال کام کرنے کی ضرورت ہے اورریلوے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کے پاس اس قدر وسائل نہیں کہ وہ اتنا مالی بوجھ اٹھا سکے۔

وزیر ریلوے نے بتایاکہ ایک موبائل کمپنی نے ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کو موبائل فون چارج کرنے کی سروس بھی مہیا کردی ہے، ریلوے میں اچھا کام ہورہا ہے، آنے والے برسوں میں مزید بہتری کی جانی چاہیے ،ْ جب انہوں نے ذمہ داری سنبھالی تو ریلوے کی آمدنی 18 اور خسارہ ساڑھے 30 ارب تھا، آج آمدنی 50 ارب اور خسارہ 35 ارب ہے اس طرح آمدنی میں 32 ارب جبکہ خسارے میں ساڑھے تین ارب کا اضافہ ہوا ہے، ریلوے کے ایک لاکھ 18ہزار پنشنرز اور 73ہزار ملازمین ہیں، متعدد سیکشن محض لوگوں کی سہولت کے لیے نقصان میں چلائے جارہے ہیں کیونکہ ریلوے کمرشل ادارہ نہیں، ہمیں ریلوے کا کرایہ بھی نہیں بڑھانا، تنخواہوں پر بھی ہمارا کنٹرول نہیں، ریلوے کو خسارے سے مکمل نکالنے کے لیے آمدنی بڑھانا ہوگی۔

(جاری ہے)

سعد رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کسی آبزرویشن پر تبصرہ نہیں کروں گا، کوئی جو مرضی کہتا رہے، اللہ کو راضی کرنا ضروری ہوتا ہے، ہم نے صدقہ جاریہ سمجھ کر کام کیا ہے، سیاسی کارکنوں کو 70 سال سے اس طرح کے میڈل ملتے رہے ہیں، یہ رسہ کشی اور کھینچا تانی ختم نہ ہوئی تو ہم ایک دائرے میں ہی رہ جائیں گے۔وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک تاریخی ٹرین خیبر میل کا افتتاح کیا گیا ہے جسکی چونسٹھ کوچز ہیں،پانچ ہزار مسافروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ٹرین میں تما م ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ ریلوے کی آمدنی میں تو اضافہ ہو رہا ہے مگر ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنز وفاقی حکومت کے ذمہ ہے ۔۔ریلوے میں ایک لاکھ 18ہزار پینشنرز اور73ہزار ملازمین ہیں جن کی تنخواہوں اور پنشنز میں ہر سال اضافہ ہو جاتا ہے۔ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن پر 65اور 68ارب روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ ریلوے کے متعدد سیکشن عوامی مفاد میں چلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں گذشتہ 65سال میں ہونے والی تباہی کا ازالہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں 15سال کا کام کر کے کیا ہے جس سے ریلوئے میں بہتری نظر آئی ہے۔وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ پشاور سے کراچی کے درمیان چلنے والی ٹرین کو جدید سہولتوں سے اراستہ کر کے اپ گریڈ کیا گیا ہے ،ْیہ ٹرین موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بہتریں مثال ہے جو مسافروں کو مہیا کر رہے ہیں۔

ٹرین میں چھ اکانومی،تین اے سی بزنس،ایک اے سی سلیپر،ایک ڈائننگ کار،،اے سٹینڈرڈ،پاور وین،پوسٹل وین،لگیج وین اور ملٹری کورئیر شامل ہیں۔اس میں مسافروں کے لئے نئی اپ گریڈیشن،چارجنگ پوائنٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔انہوںنے بتایا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں اب تک 45ٹرینیں جن میں 645مختلف اقسام کی کوچز شامل ہیں کو اپ گریڈیشن اور ویلیو ایڈیشن کر کے ٹریک پر لایا گیا ہے اور ان ٹرینوں پر اب تک تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت خرچ کی گئی ہے جو کہ بائیس لاکھ رو پے فی کوچ بنتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند مہینو ں میں مذید دو ٹرینوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہو جائے گی ۔