انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین 1کروڑ سے زائد فرق کو کم کرنے کیلئے بھرپور تشہیری مہم کے باوجود الیکشن کمیشن کو اپنے ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا

ہفتہ اپریل 20:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین 1کروڑ سے زائد فرق کو کم کرنے کیلئے بھرپور تشہیری مہم کے باوجود الیکشن کمیشن کو اپنے ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا ہے ،ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کے عدم تعائون اور مخصوص حالات کی وجہ سے خواتین کو انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ حصہ دینے کی کوششیں کامیاب نظر نہیں آرہی ہیں،وفاقی دارلحکومت سمیت ملک بھر کے 79اضلاع میں نادرہ کے تعائون سے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کیلئے شروع کئے جانے والے مہم کے دوران 62لاکھ سے زائد شناختی کارڈ سے محروم خواتین میں سے 8لاکھ 80ہزار کے قریب خواتین کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین 1کروڑ 21لاکھ 70ہزار کے بڑے فرق کے انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ستمبر 2017میں نادرا کے تعائون سے خواتین کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرنے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا اور اس سلسلے میں ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کو خواتین کی رجسٹریشن میں مدد دینے کے سلسلے میں خطوط لکھے گئے مگر بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین بڑے فرق کو کم کرنے کیلئے کسی قسم کی سرگرمی کا مظاہرہ تو درکنار الیکشن کمیشن کی جانب سے ارسال کئے جانے والے خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہ کیا سیاسی جماعتوں کی جانب سے مایوس کن رویے کے بعد الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں این جی اوز کے تعائون سے خواتین کی رجسٹریشن کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں ملک بھر میں 79ایسے اضلاع کا انتخاب کیا گیا جہاں پر مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں بڑے پیمانے پر فرق پایا جاتا ہے اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے 16پنجاب کے 27سندھ کے 24بلوچستان کے 10اور وفاقی دارلحکومت میں شناختی سے محروم62لاکھ 58ہزار سے زائد خواتین کی رجسٹریشن کیلئے نادرہ کے تعائون سے خصوصی مہم شروع کی گئی جس کے مطابق خیبر پختونخوا کے 16 اضلاع میں 9لاکھ سے زائد خواتین شناختی کارڈ سے محروم ہیں اور خصوصی مہم کے دوران 1لاکھ 48ہزار سے زائد خواتین کو شناختی کارڈ کے حصول میں مدد فراہم کرکے انہیں ووٹر کی حیثیت سے رجسٹرڈ کر لیا جائے گا پنجاب کے 27اضلاع میں شناختی کارڈ سے محروم 37لاکھ 43ہزار سے زائد خواتین میں سے 5لاکھ 23ہزار سے زائد خواتین کو شناختی کارڈ کے حصول اور بطور ووٹر رجسٹریشن مدد فراہم کی جائے گی اسی طرح سندھ کے 24اضلاع میں شناختی کارڈ سے محروم 13لاکھ 62ہزار سے زائد خواتین میں سی1لاکھ 65ہزار بلوچستان کے 11اضلاع میں شناختی کارڈ سے محروم1لاکھ 99ہزار سے زائد خواتین میں سے 35ہزار اور وفاقی دارلحکومت کے نواحی علاقوں میں شناختی کارڈ سے محروم 50ہزار سے زائد خواتین میں سے 7ہزار سے قریب خواتین کو شناختی کارڈ کے حصول اور بطور ووٹر رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جائے گی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے فہرست کے مطابق خیبر پختونخوا کے 10سندھ کے 5اور بلوچستان کے 10اضلاع کو خواتین ووٹرز کی کم رجسٹریشن کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیدیا گیا ہے ان تمام اضلاع میں 45کے قریب این جی اوز اور نادرہ کے تعائون سے خواتین کو شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے مہم چلائی جا رہی ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوںمیں ووٹ کے اندراج ،تبدیلی اور اخراج کے سلسلے میں دی گئی ڈیڈ لائن میں دو روز باقی رہ گئے ہیں اور منگل کے روز یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا جس کے بعد انتخابی فہرستوں کو منجمد کرکے ان کی چھپائی اور دیگر امور کا آغاز کر دیا جائے گا ۔

اعجاز خان