صوبائی حکومت نے 24 گھنٹے میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دیا جائیگا،

ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کوئٹہ

ہفتہ اپریل 20:58

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے 24 گھنٹے میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دیا جائیگا کچھ بھی ہوا تو اس کی تمام ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہو گی ان خیالات کا اظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹریاسر خوستی نے آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن کے جمال شاہ کاکڑ، وائی ڈی اے کے طاہر آغا، بختیار بزنجو ،حافظ عثمان ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان ،ینگ ڈاکٹرز اورپیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن کے مطالبات جس میں ہیلتھ پروفیشنل الائونس ،رسک الائونس ،سروس اسٹرکچر ،ہائوس آفیسر اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی ماہانہ وظائف دوسرے صوبوںکے ہائوس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ آفیسرز کے برابر کرنا اور بلوچستان بھرکے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے خلاف 6مارچ سے جو احتجاجی مرحلہ یا احتجاجی تحریک شروع کی اس احتجاجی تحریک کے دوران حکومت واپوزیشن ارکان نے ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کے احتجاجی کیمپ میں مطالبات کے حل کی یقین دہانی اور سرکاری ہسپتالوںکیلئے گرانٹ کااعلان کردیا انہوں نے کہاکہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ صوبائی وزیر داخلہ ودیگر کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کے اعلان کردہ احتجاجی گرانٹ اب تک ہسپتالوں کو فراہم نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ہسپتالون میں سہولیات کا فقدان ہے ،انہوں نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز اورپیرامیڈیکس کے احتجاجی کیمپ کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیمپ کا دور ہ کیا اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان بھی ان کے ہمراہ تھے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس نے حکومت بلوچستان کو ینگ ڈاکٹرز اورپیرامیڈیکس کے مطالبات کے حل کیلئے 4دن کا مہلت دیا مگر اب تک اس پرعملدرآمد نہیں کیا گیاہے انہوں نے ایک بار پھر24گھنٹوں کاالٹی میٹم دیتے ہوئے کہاہے کہ اگر 24گھنٹوں میں ہمارے مطالبات پرعملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم وزیراعلی ہائوس کی طرف مارچ کرینگے ،انہوں نے کہاکہ ہم احتجاج پر نہیں جائینگے اور او پی ڈیز بھی جاری رکھیںگے ،انہوں نے اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے سرکاری ملازمین کیخلاف بیانات پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ خود کرپشن کے شکار ہے وہ دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں حکومت کی عجیب منطق ہے وعدے کرتے ہیں اور پھر ان وعدوں سے منحرف ہوجاتے ہیں ،انہوں نے چیف جسٹس کی کوئٹہ میں موجودگی کے موقع پر ایک گھنٹے ملاقات کی گئی جس میں مطالبات سے متعلق بات چیت کی گئی ،،چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ اگر مطالبات حل نہ ہوئے تو میں دوبارہ کوئٹہ آئوں گا۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا تو انہوں نے مطالبات سے متعلق معلوم کیا ہم نے کہاکہ اب تک اس پرعملدرآمد نہیں ہواہے جس پر انہوں نے کہاکہ میں چاروں صوبوں کے حکام کو طلب کرکے اس بارے بات کروں گا