9سال قبل ضلع کچہری میں قتل ہونے والے شخص کی بہن نے ذمہ داری یوسی چیئرمین سجاد خان پر عائد کردی گئی

سجاد خان نے اس کے اکلوتے بھائی کے ذریعے اپنے مخالف کا قتل کروایا اور بعد ازاں اس کے مقدمہ کی پیروی سے ہاتھ کھینچ لیا چیف جسٹس آف پاکستان اس واقعہ کا از خود نوٹس لیں اور واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں ، مطالبہ

ہفتہ اپریل 21:07

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) 9سال قبل ضلع کچہری میں قتل ہونے والے شخص کے قاتل کی بہن نے واقعہ کی ذمہ داری ممتاز مسلم لیگی رہنما،سابق تحصیل نائب ناظم و یونین کونسل 42کے چیئر مین سجاد خان پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ سجاد خان نے اس کے اکلوتے بھائی کے ذریعے اپنے مخالف کا قتل کروایا اور بعد ازاں اس کے مقدمہ کی پیروی سے ہاتھ کھینچ لیا چیف جسٹس آف پاکستان اس واقعہ کا از خود نوٹس لیں اور واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں اس امر کا اظہار قتل کے مقدمہ میں 9سال سے پابند سلال علی احمد کی ہمشیرہ نے ہفتہ کے روز اپنے معصوم بچوں کے ہمرا ہ کمیٹی چوک میںسجاد خان کے ہوٹل کے باہر احتجاج کے دوران کیا مسماة مصباح نے بتایا کہ وہ لین نمبر1لالہ زار کی رہائشی ہے 9سال قبل جب اس کا بھائی علی احمد جب 19سال کا تھا اس وقت سجاد خان نے اسے ورغلایا کہ کاکو نامی شخص اس کا مخالف ہے اور اسے اور اس کے بچوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تم اسے قتل کردو تومیں تمہارے کیس کی پیروی کر کے تمہیں بچا لوں گا جس پر اس کے بھائی نے کاکو کو ضلع کچہری میں قتل کر دیا لیکن بعد ازاں سجاد خان نے نہ صرف مقدمہ کی پیروی چھوڑ دی بلکہ اس کے بھائی کو سزائے موت دلوانے میں بھی اثرو رسوخ استعمال کیااور دولت کے بل بوتے پر خود کیس سے بری ہو گیا مصباح نے کہا کہ اس کا اس کے بھائی کے علاوہ دنیا میں کوئی نہیں تھا اس کی4معصوم بیٹے اور1بیٹی ہے جو آج تک سکول نہیں جا سکے جبکہ وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ سجاد کان ایک قبضہ گروپ ہے اور لالہ زار میں حنیف نامی شخص کے جس مکان میں وہ رہائش پذیر ہے اس پر بھی سجاد خان نے قبضہ کر رکھا ہے خاتون نے چیف جسٹس سے از خود نوٹس اور واقعہ کی از سرنو تحقیقات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ بچوں سمیت سجاد خان کے ہوٹل کے باہر خود سوزی کر لے گی ادھر اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سجاد خان نے ’’آن لائن‘‘کو بتایا کہ خاتون کا بھائی کاکو نامی جس شخص کے قتل کیس میں سزا یافتہ ہے وہ مقتول ایک جرائم پیشہ آدمی تھا جو نہ سرف 26افراد کے قتل میں مطلوب تھا بلکہ فیروز والا پولیس کو ڈکیتی کے مقدمات میں بھی مطلوب تھا جبکہ خاتون کے بھائی علی احمد کے دوست ابرار کی بھی کاکو سے دشمنی تھی جنہوں نے کاکو کے قتل کیس میں مجھے بلاجواز نامزد کیا تاکہ میرا پیسہ استعمال کر کے کیس کی پیروی کی جا سکے لیکن کوئی ثبوت نہ ہونے پر عدالت نے مجھے بری کر دیا جبکہ علی احمد کو سزائے موت سنا دی جس کی اپیل اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے انہون نے کہا کہ اب چونکہ انتخابات کی آمد ہے اور میں خود قومی اسمبلی کا امیدوار ہوں میرے سیاسی مخالفین اس خاتون کو استعمال کر کے مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میرا نہ پہلے اس کیس سے کوئی تعلق تھا اور نہ اب کوئی سروکار ہے اس کے باوجود میں نے انسانی ہمدردی کے تحت اس خاتون کو کرائے پر مکان لے کر دیا تاکہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کر سکے لیکن اب مخالفین اس خاتون کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں ۔