باغبانوں کو رعایتی قیمتوں پر فروٹ فلائی کے خاتمہ کا محلول میتھائل یوجینال کی تقسیم قرعہ اندازی کے ذریعے شروع

ہفتہ اپریل 21:09

فیصل آباد۔21 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) محکمہ زراعت پنجاب کے فروٹ فلائی کنٹرول پراجیکٹ کے تحت امرود ‘ آم اور ترشاوہ پھلوں کو مادہ مکھی کے نقصانات سے بچانے کے لئے باغات کے کسانوں کو جدت کی جانب راغب کیا جارہا ہے جس کے تحت رعایتی قیمتوں پر فروٹ فلائی کے خاتمہ کا محلول میتھائل یوجینال تقسیم کیا جارہا ہے جو جنسی پھندہ کے ذریعے پھلوں کے کیڑوں کے خاتمے کا محفوظ ‘ مفید اور جدید انسدادی طریقہ ہے ۔

باغات کے کسانوں کو یہ محلول رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لئے موصول کی گئیں درخواستوں کی قرعہ اندازی ڈپٹی کمشنر سلمان غنی کی زیر نگرانی کی گئی ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت چوہدری عبدالحمید ‘ ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری محمد شفیع اور دیگر افسران کے علاوہ باغات کے کسان بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

فروٹ فلائی کنٹرول پراجیکٹ کے تحت مطلوبہ معیار و شرائط پر پورا اترنے والے 57 کسانوں کی درخواستوں کو قرعہ اندازی میں شامل کیا گیا جن میں سے 75 ایکٹر رقبہ کے لئے گیارہ کسان کامیاب ہوئے جبکہ چار درخواستوں کو ویٹنگ لسٹ میں رکھاگیا ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سلمان غنی نے کہا کہ جدید طریقہ کاشتکاری کو فروغ دے کر پیداواری لاگت کو کم کیا جاسکتا ہے جس کے لئے حکومت پنجاب نے زرعی شعبہ میں انقلابی پروگرامز متعارف کرائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنسی پھندے کے ذریعے پھلوں کو کیڑوں کے حملوں سے بچانے کے طریقے سے نہ صرف زرعی ادویات کے سپرے کے اخراجات کی بچت ہو گی بلکہ پھلوں کے صارفین بھی سپرے کے مضر اثرات رہیں گے ۔

انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ امردو ‘ آم و ترشاوہ پھلوں کو فروٹ فلائی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لئے جنسی پھندے والا طریقہ اختیار کریں اس سلسلے میں حکومتی معاونت کے ساتھ ساتھ فارمرز کمیونٹی کو بھی آگے آنا چاہئے تاکہ وہ باغات سے صحت مند پیداوار حاصل کرکے اچھا منافع کما سکے۔انہوںنے محکمہ زراعت کے افسران و فیلڈ سٹاف سے کہا کہ وہ باغات کے کسانوں کی جدید حفاظتی و کاشتکاری طریقہ کار سے متعلق بھر پور انداز میں رہنمائی کریں تاکہ کم سے کم خرچ میں اچھی سے اچھی پیداوار حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو۔

انہوں نے فروٹ فلائی کے خاتمے کے لئے جدید انسدادی طریقہ میں باغات کے کسانوں کی گہری دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری پھل کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے جدید سائنسی طریقوںکو زیادہ سے زیادہ فروغ دیاجائے ۔ ڈائریکٹر زراعت چوہدری عبدالحمید نے بتایا کہ فروٹ فلائی کنڑول پراجیکٹ کے تحت ساڑھے بارہ ایکٹر اراضی کے حامل باغات کے کسانوں کو پچاس فیصد اور اس سے اوپر اراضی کے حامل کسانوں کو تیس فیصد سبسڈی فراہم کی جارہی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ کے تحت پھلوں کے باغات میں فی ایکٹر چھ جنسی پھندے درختوں کے ساتھ لٹکائے جاتے ہیں اور روئی سے بنے ہوئے کیپسول پر میتھائل یوجینال کے چار سے پانچ قطرے ڈال کر پھندے میں رکھ دیا جاتا ہے جو کہ فروٹ فلائی کے لئے کشش کا باعث ہوتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محلول سے آلودہ یہ کیپسول پندرہ دن کے وقفے سے تبدیل کرنے چاہئے ۔

انہوں نے کسانوں کی رہنمائی کے لئے کہا کہ وہ درخت سے گرنے والے پھلوں کو فوری اکٹھا کرکے زمین میں دبائیں تاکہ کیڑوں کا پھلائو روکا جا سکے ۔ اس موقع پر موجود کسانوں نے پھلوں کی حفاظت کے لئے جنسی پھندے کے طریقہ کار کو نہایت کار گر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس انتہائی آسان اور سستے طریقے سے نہ صرف پھلوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ صارفین کو مضر صحت سپرے سے پاک پھل میسر آسکتے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :