بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے ۔ نیب ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی ہرممکن کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔

شکایات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹا کر ریفرنس متعلقہ عدالتوں کو بھجوانے کیلئے اور بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے قانون کے مطابق اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا بیان

ہفتہ اپریل 21:46

بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے ۔ نیب ’’احتساب سب کیلئے‘‘ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے ۔ نیب ’’’احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی ہرممکن کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ شکایات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹا کر ریفرنس متعلقہ عدالتوں کو بھجوانے کیلئے اور بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے قانون کے مطابق اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

نیت ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے درست طریقہ کار کے ذریعے قوم کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیب کی سزائوں کی شرح77 فیصد تک پہنچ گئی ہے جسے شفافیت ، میرٹ، مناسب ثبوت پیش کرنے اور شفاف تفتیش کو یقینی بناتے ہوئیء بڑے اور وائٹ کالر مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹانے کیلئے مزید بہتر بنانے کو یقینی بنا رہی ہے۔

(جاری ہے)

موثر کوششوں کی بدولت بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور مختلف مقدمات میں بے گناہ افراد کی لوٹی ہوئی دولت وصول کی گئی اور قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے مقدمات نیب میں زیر عمل ہیں جسے قانون کے مطابق مکمل کیا جائے گا جنہوں نے سرکاری ملازمین، پنشن خواہ ملازمین کو پوری زندگی کی جمع پونجی سے محروم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرل صاحبان کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔ انہوں نے نیب افسران کو ہدایت کی کہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور قانون کے مطابق بلاتفریق سرانجام دیں۔ نیب افسران کو چاہئے کہ متعلقہ عدالتوں میں ٹھوس ثبوت اور دلائل پیش کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو سزا مل سکے اور عوام کی انتہائی محنت سے کمائی دولت لوٹنے والے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے بطور چیئرمین ذمہ داریاں سنبھالی ہیں چھ ماہ کے دوران نیب متعلقہ احتساب عدالتوں میں 197 بدعنوانی کے ریفرنسز بھجوا چکی ہے جو میگا اور وائٹ کالر جرائم کی تفتیش کے طور پر ایک ریکارڈ کامیابی ہے جو بہت مشکل کام تھا اور اس کے لئے سالہا سال لگ سکتے تھے لیکن جب آپ کا مقصد، مشن اور وژن واضح ہو گا تو یہ چیز ممکن ہوگی۔ نیب نے چھ ماہ کے دوران مختلف مقدمات میں 226 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، 55 شکایات کی تصدیق ، 39 کی انکوائری اور 33 کی تفتیش جاری ہے جبکہ 27 ملزمان کو سزائیں متعلقہ احتساب عدالت سے دی جاچکی ہیں جو نیب کی بھرپور اور موثر کوششوں کا حصہ ہے جو بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اختیار کی گئی ہیں۔

متعلقہ عنوان :