مقامی صنعت کو بچانے کے لئے درآمدی اشیاء کی ڈیوٹی میں اضافہ نا گزیر ہے ‘ خواجہ حبیب الرحمان

بجٹ میں کاروبار دوست ماحول اور زراعت کے فروغ کیلئے بھی فنڈز مختص کئے جائیں‘ صدر ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ

اتوار اپریل 11:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مقامی صنعتوں کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات نظر آنے چاہئیں ،مقامی صنعت کو بچانے کے لئے درآمدی اشیاء کی ڈیوٹی میں اضافہ نا گزیر ہے ،معاشی، اقتصادی اور زرعی خودمختاری یقینی بنانے کیلئے اندرون ملک مقامی وسائل اور سرمائے کو برے کار لانے کیلئے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں، کسانوں کو قدرتی آفات سے بچا نے کیلئے فارمز گارڈ انشورنس کی حفاظتی چھتری فراہم کی جائے اور اس کا اطلاق پولٹری کی صنعت پر بھی کیا جائے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاشی اور اقتصادی غلامی سے نکلے بغیر پاکستان کی آزادی اور خودمختاری ایک خواب رہے گی، مقامی صنعت کو بچانے کیلئے درآمد ی اشیائے پر 60 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے ۔

(جاری ہے)

ان اشیاء کی درآمد میں کمی سے نہ صرف ملکی صنعت ترقی کرے گی بلکہ زر مبادلہ کے قیمتی ذخائر بھی محفوظ ہوں گے اور لوگوں کو روز گار کے مواقع میں میسر آئیں گے ۔

حکومت اگر صنعتی ترقی چاہتی ہے تو سمگلنگ کیخلاف بھی بلا امتیاز موثر کارروائیاں کی جائیں ۔۔بجٹ میں کاروبار دوست ماحول اور زراعت کے فروغ کیلئے بھی فنڈز مختص کئے جائیں۔معاشی ترقی کی رفتار کو بڑ ھانے کیلئے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لا نا ہو گا۔ملک میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ اسی وقت ممکن ہوگا جب حکومت عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ اس ٹیکس کی ادا کی گئی رقم حکمرانوں کی عیاشیوں کے بجائے عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں خرچ کی جارہی ہے۔