گجرات فسادات میں ملوث نریندر مودی کی قریبی ساتھی مایا کوڈانی باعزت بری

نامزد دیگر ہندو انتہا پسند رہنما بابو بنجرانی سمیت دیگر 12 ملزمان کی سزا برقرار رکھی گئی ہے،اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر

اتوار اپریل 11:50

احمد آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) بھارتی عدالت نے 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے الزام میں قید، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ساتھی مایا کوڈنانی کو بری کردیا۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر ہندو انتہا پسند رہنما بابو بنجرانی سمیت دیگر 12 ملزمان کی سزا برقرار رکھی۔

(جاری ہے)

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر آر سی کوڈیکر کا کہنا تھا کہ عدالت نے مقدمے کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر غور کیا کہ مایا کوڈنانی کا نام 2002 کے فسادات میں کبھی سامنے نہیں آیا، البتہ اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی تحقیقات کے بعد ان کا نام مقدمے میں شامل کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کے مطابق مایا کوڈنانی کے خلاف دیے گئے دیگر 11 ملزمان کے بیانات میں تضاد ہے،جس کی بنا پر انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا،مایا کوڈنانی نریندر مودی کی گجرات حکومت کے دور میں وزیر رہ چکی ہیں، جنہیں 2012 میں 97 افراد کے قتل کے الزام میں 28 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یاد رہے 2002 کے مسلم کش فسادات بھارتی تاریخ کے بدترین فسادات میں سے ایک تھے۔63 سالہ مایا کوڈنانی نے 2012 کے فیصلے کے خلاف گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس کے نتیجے میں عدالت نے انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔