جامعہ آزادجموں وکشمیر شعبہ اردو کے پہلے مقالہ نگاروں نے کامیاب دفاع کر لیا

شعبہ کے دوسرے سیشن کے تین طلبہ نے لیکچرر میر یوسف ،عاصمہ کبیر کی زیر نگرانی اپنا تحقیقی کام مکمل کیا

اتوار اپریل 12:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) جامعہ آزادجموں وکشمیر شعبہ اردو کے پہلے مقالہ نگاروں نے کامیاب دفاع کر لیا،شعبہ کے دوسرے سیشن کے تین طلبہ نے لیکچرر میر یوسف ،عاصمہ کبیر کی زیر نگرانی اپنا تحقیقی کام مکمل کیا ،اوپن ڈیفنس کی تقریب شعبہ اردو میں منعقد ہوئی ، ہزارہ یونی ورسٹی سے ڈاکٹر محمد الطاف یوسف زئی اسسٹنٹ پروفیسر نے بیرونی ممتحن کے فرائض سر انجام دیے ،اس موقع پر سربراہ شعبہ اردو ڈاکٹر محمد جاوید خان ،سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالکریم ،،ڈاکٹر مسعود عباسی بھی موجود تھے،جب کہ کراچی سے معروف ادبی شخصیت سید معراج جامی ،وائس چیئرمین آزادجموں وکشمیر پریس فائونڈیشن سردار ذوالفقار علی ،پروفیسر راجا رحمت علی خان ،ممتاز شاعر مخلص وجدانی نے بہ طور خاص کی شرکت کی ،سیشن 2015-17کے اسکالرافضال عالم نے ’’شمس الرحمان فارقی ‘‘ کے ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ ،خالد توفیق نے اکرم سہیل کی شاعری پر میر یوسف میر کی زیر نگرانی تحقیقی کام کیا جب کہ قمر الزماں قمر نے ’’محمد خان نشتر‘‘ کی شاعری پر عاصمہ کبیر کی زیر نگرانی تحقیقی کام مکمل کیا،بیرونی ممتحن ڈاکٹر الطاف یوسف زئی نے تحقیقی کام کو بے حد سراہا اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کی ،ان کا کہنا تھا کہ آزادجموں وکشمیر یونی ورسٹی شعبہ اردو میں تحقیقی کام کا معیار اور اوپن ڈیفنس تقریب کے انتظامات پاکستان کی بڑی جامعات سے بھی اچھے ہیں جس پر اساتذہ اور طلبہ مبارک باد کے مستحق ہیں ،اس موقع پر اوپن ڈیفنس میں اساتذہ کے علاوہ طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مقالہ نگاروں کو کامیاب دفاع پر مبارک باد پیش کی ،یاد رہے آزادجموں وکشمیر یونی ورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام 2014ء میں عمل میں آیا ،شعبہ کا پہلا سیشن 2016ء میں فارغ التحصیل ہوا،یہ تینوں اسکالرز اس شعبہ کے پہلے مقالہ نگار بن گئے ہیں ،سربراہ شعبہ اردو اور فیکلٹی نے انھیں تحقیقی کام پر مبارک باد پیش کی ہے ۔

متعلقہ عنوان :