پاکستان کو اقوام متحدہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ پاکستان بین الاقوامی ادارے کی پالیسی کو کامیاب بنانے کے لئے موثر کردار ادا کر رہا ہے، گزشتہ سالوں کے دوران پاکستان کو اقوام متحدہ کے کئی اداروں میں منتخب کیا گیا، ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے دورے پر آئے امریکی وار کالج کے ایک وفد سے گفتگو

اتوار اپریل 12:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ پاکستان بین الاقوامی ادارے کی پالیسی کو کامیاب بنانے کے لئے موثر کردار ادا کر رہا ہے، گزشتہ سالوں کے دوران پاکستان کو اقوام متحدہ کے کئی اداروں میں منتخب کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے دورے پر آئے امریکی وار کالج کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان 7 مرتبہ سیکورٹی کونسل اور چار دفعہ انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار امن، استحکام، ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے شعبوں میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر امن و امان کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کی فوج میں پاکستانی فوجیوں کی نمائندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے وفد کو پاکستان کی سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ سیاسی حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہوئی ہے اور گزشتہ 70 سال کے دوران ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری حکومتوں کا دورانیہ سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دوسری مرتبہ ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو انتقال اقتدار ہو گا جو آئندہ چند ماہ کے دوران ہونے والے انتخابات کے بعد ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوریت کے لئے مکمل اتفاق رائے موجود ہے اور پاکستان کی فوج بھی جمہوری عمل کے تسلسل پر پائے جانے والے اتفاق رائے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اور آئینی ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور ملک میں آزاد عدلیہ، خود مختار میڈیا اور سول سوسائٹی کے کردار میں اضافہ ہوا ہے۔ سلامتی کے حوالے سے وفد کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت پاک سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج نے ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے کئے جانے والے اقدامات سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیانیے کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دنیا میں سب سے بڑی جنگ لڑی ہے اور اس میں دو لاکھ سے زائد فوجی شریک ہوئے، یہی وجہ ہے کہ اس سے تاریخی نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ تشدد اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں 2010ء سے 60 فیصد کمی ہوئی ہے اور 2006ء کے بعد اب پرتشدد واقعات کی تعداد سب سے کم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا، ہم اس حوالے سے مزید کوششیں کر رہے ہیں جن کے نتیجہ میں اب ہم ایک محفوظ اور پر امن ملک بن چکے ہیں۔ اقتصادی شعبے کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ توانائی کے بحران پر انہوں نے بتایا کہ ملک میں توانائی بحران کے خاتمہ کے بعد قومی معیشت کی شرح نمو اور اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی نمایاں حد تک کم ہو چکا ہے۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور بین الاقوامی ترجیحات کے مطابق ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لئے جامع اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ پائیدار استحکام کے لئے ضروری ہے۔ خارجہ پالیسی کے دیگر اہم نکات کے حوالے سے انہوں نے وفد کو بتایا کہ ہم پر امن ہمسائیگی کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ کا خواہشمند ہے، اسی طرح پاکستان بھارت سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کے لئے بامقصد مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی اقتصادی ترقی اور رابطوں میں اضافے کے لئے پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔