تعلیمی اداروں پر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات،امریکہ میں طلباء سراپا احتجاج

ہزاروں طلباء کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر جمع،ریلیاں منعقد،بندوق کلچر بند کروے کے نعرے

اتوار اپریل 12:20

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) امریکا کی درسگاہوں میں بڑھتے فائرنگ کے واقعات کے پیش نظر امریکا میں ہزاروں طلباء اپنی کلاسوں سے واک آوٹ کر گئے اور سراپا احتجاج بندوق سے ہونے والے تشدد کی روک تھام اور بندوق کی بے جا فروخت پر پابندی کا مطالبہ کرنے لگے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر کولمبائن کے ہائی سکول میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کو 19 سال بیت گئے جس کی یاد میں طلباء نے کلاسیں لینے سے انکار کر دیا۔

کلاس سے نکل کرانہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا لئے جس پر لکھا تھا’’مجھے گریڈ کے بارے میں پریشان ہونا چاہئے نا کہ بندوق سے‘‘۔امریکی میڈیا کے مطابق اسکول کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ڈھائی ہزار سے زائد اسکول اور تعلیمی اداروں کے طلباء اس احتجاج میں شریک ہوئے ،بہت سے طلباء نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے، یہ رنگ بندوق کے خلاف تحریک کی نمائندگی کرتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ طلباء نے 13 منٹ کی خاموشی اختیار کر تے ہوئے کولمبائن اسکول کے 13 طلباء کو خراج تحسین پیش کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ الیکشن قریب ہیں اور ابھی ہم ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے ، اسی لئے اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لئے ہم نے یہ طریقہ اپنایا ہے۔واضح رہے 20 اپریل 1999ء میں کولمبائن ہائی سکول میں دو 18 سالہ طالبعلموں ایرک دیوڈ ہیرس اور ڈیلن بینیٹ نے فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 24 کو زخمی کردیا۔

واقعے کے فورا بعد دونوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔یہ واقعہ کسی بھی امریکی ہائی سکول میں ہونے والا قتل عام کا مہلک ترین واقعہ ثابت ہوا جس نے امریکی سکولوں میں بچوں کو ڈرانے دھمکانے اور چھیڑنے کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں پر پابندی اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی پر بھی بحث چھیڑ دی تھی۔امریکا میں فائرنگ کے خلاف طلباء کا یہ پہلا احتجاج نہیں ہے ، اس سے پہلے بھی طلباء کئی انداز میں احتجاج کر چکے ہیں۔گزشتہ ماہ فائرنگ کے بڑھتے واقعات کیخلاف انوکھا احتجاج کیا گیا ۔ یوایس کیپٹل کی عمارت کے باہر سات ہزار بچوں کے جوتے رکھ دیئے گئے تھے۔