زچہ و بچہ میں شرح اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے پانچ ممالک کی صف میں آ گیا

اتوار اپریل 12:50

فیصل آباد۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) پاکستان میں حفاظتی ، تدارکی ، احتیاطی تدابیر پر مؤثر انداز میں عملدر آمد نہ کرنے ، مستند گائنا کالوجسٹس کی بجائے غیر تربیت یافتہ دائیوں سے ڈلیوری کیس کروانے اورا ن سٹرلائزڈ آلات جراحی کے استعمال کے باعث دوران زچگی زچہ وبچہ میں شرح اموات میں بڑی حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے اورا س حوالے سے پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جہاں شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے ماہرین طب نے بتایا کہ یہ بات بھی تشویش کا باعث ہے کہ زچگی کے دوران خواتین گائنا لوجسٹس سے باقاعدگی سے چیک اپ کرواتی ہیں اور نہ ہی متوازن خوراک پر توجہ دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ نومولود کی پرورش کے دوران اسے مناسب خوراک دستیاب نہیں ہوتی اور متوازن غذا نہ ملنے سے ہر ایک سو میں سے کم از کم بیس بچے کم وزنی کا شکار ہوتے ہیں جنہیں بعد میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ تاہے جبکہ بعض اوقات کم وزن بچے وفات بھی پا جاتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ زچہ و بچہ کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہے لہٰذا حاملہ مائوں کو بھی ہدائت کی جاتی ہے کہ وہ دوران زچگی لیڈی ڈاکٹرز کے مشوروں پر عملد ر آمد یقینی بنائیں ۔

متعلقہ عنوان :