شہد کی مکھیوں کے فارم قائم کر کے بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے، ماہرین زراعت

اتوار اپریل 12:50

فیصل آباد۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی کمرشل بنیادوں پر افزائش نسل سمیت برسیم، شیشم، شفتل، پھلائی کی کاشت کے علاقوں میں شہد کی مکھیوں کے فارم قائم کر کے بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے جس سے جہاں بہترین شہد کی بھاری پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے وہیں اس قدرتی نعمت سے معاشی وا قتصادی استحکام بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایک ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر سے لے کر مئی کے وسط تک چونکہ مذکورہ پودوں اور درختوں کی فصلیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں لہٰذا شہد کی مکھیاں ان کے پھولوں سے شہد حاصل کر کے اپنے چھتوں میں ان کا سٹاک کرسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پھلائی( پلوسہ) سے حاصل ہونے والا شہد انتہائی شاندار ذائقے کا حامل ہوتا ہے جبکہ بیکٹر کے پھول بھی زیادہ شہد پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ جہاں پھلائی ( پلوسہ)، شفتل، برسیم، شیشم کے درخت اور فصلیں ہوں وہاں شہد کی مکھیاں طاقتور اور زیادہ شہد جمع کرسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شورزدہ زمین پر جینجر کی فصل کاشت کر کے اس سے بھی شہد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں کرکنہ، بیر کے پودے کثرت سے کاشت کئے جائیں وہاں بھی شہد کی مکھیوں کے فارم لگا کر بھاری رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :