مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی لبریشن فرنٹ کے رہنمائوںپر کالاقانون لاگو کرنے کی شدید مذمت، بھارتی پولیس کا ظالمانہ رویہ اور ہتک آمیز سلوک کشمیری نوجوانوں کوبندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے

اتوار اپریل 13:40

سرینگر۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے پارٹی رہنمائوں سراج الدین میراور عبدالرشید مغلوپر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے جموں کی کورٹ بھلوال جیل منتقل کرنے اور پارٹی رہنما نور محمد کلوال کی نظربندی کو طول دینے کیلئے نت نئے حربے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ سیاسی رہنمائوں ،کارکنوں اور معصوم طلباء کوظلم و تشدد کا نشانہ بنانا ، انہیں نظربند کرنا اور ان کی نظربندی کو طول دینے کیلئے ناجائز اور غیر قانونی حربے استعمال کرنا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کٹھ پتلی حکمران اور انکے پولیس سربراہ سیاسی رہنمائوں اور کارکنوںکو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے دینے کے حوالے سے اعلانات کرتے پھرتے ہیں اور دوسری طرف ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوںپر پابندیاں عائدکرنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سراج الدین میر 70 سال کے ایک بیمار انسان ہیں جبکہ عبدالرشید مغلو حال ہی میں ایک بدترین حادثے کا شکار ہوئے ہیں اور ادویات لینے پر مجبور ہیں لیکن بھارتی پولیس نے ان دونوں کو گھر والوں سے کپڑے اور ادویات تک نہیں لینی دیں اور انہیں اس قدر عجلت اور خفیہ طریقے سے جموں منتقل کردیا گیا کہ گویا یہ سیاسی کا رکن نہیں بلکہ بدترین دہشت گرد ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی پولیس حکام کا یہی ظالمانہ رویہ اور ہتک آمیز سلوک کشمیری نوجوانوں کوبندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کشمیر میں کوئی سول حکومت نہیں بلکہ یہ ایک پولیس ریاست ہے۔