ْپاکستان میں اب جمہوریت کیلئے سیاسی و عسکری سطح پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے ،ْملیحہ لودھی

پاکستان اپنے پڑوسی ملکوں میں امن کا خواہشمند ہے، افغانستان میں امن واستحکام کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ترجیح رکھتا ہے بین الاقوامی سطح پر امن و امان کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کی فوج میں پاکستانی فوجیوں کی نمائندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے ،ْوفد سے گفتگو

اتوار اپریل 13:50

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ پاکستان میں اب جمہوریت کیلئے سیاسی و عسکری سطح پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔۔اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے یو ایس وار کالج کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان سات مرتبہ سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہو چکا ہے اورچار مرتبہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوا، پاکستان میں دوسری مرتبہ اقتدارایک سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہونے جا رہا ہے، پاکستان میں اب جمہوریت کیلئے سیاسی و عسکری سطح پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان نے جامع حکمت عملی سے تمام دہشت گر د گروپوں کا خاتمہ کر دیا ،ْدو لاکھ فوجیوں کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا انسداددہشت گردی آپریشن کیا جس کے باعث پاکستان میں2010کے بعد دہشت گرد حملوں کے واقعات60فیصد کم ہو گئے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ چیلنج ختم ہوچکا تاہم ہم اب بھی بہت بہتر پوزیشن میں ہیں، پاکستان بحران سے نکل کر مستحکم معیشت کے دورمیں داخل ہو چکا ہے۔

(جاری ہے)

ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملکوں میں امن کا خواہشمند ہے، افغانستان میں امن واستحکام کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ترجیح رکھتا ہے، پاکستان دیرینہ تنازعات کے حل سے بھارت سے دیرپا تعلقات چاہتا ہے۔۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر امن و امان کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کی فوج میں پاکستانی فوجیوں کی نمائندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے وفد کو پاکستان کی سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تشدد اور عسکریت پسندوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں 2010ء سے 60 فیصد کمی ہوئی ہے اور 2006ء کے بعد اب پرتشدد واقعات کی تعداد سب سے کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا، ہم اس حوالے سے مزید کوششیں کر رہے ہیں جن کے نتیجہ میں اب ہم ایک محفوظ اور پر امن ملک بن چکے ہیں۔

اقتصادی شعبے کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ توانائی کے بحران پر انہوں نے بتایا کہ ملک میں توانائی بحران کے خاتمہ کے بعد قومی معیشت کی شرح نمو اور اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی نمایاں حد تک کم ہو چکا ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور بین الاقوامی ترجیحات کے مطابق ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لئے جامع اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ پائیدار استحکام کے لئے ضروری ہے۔